خیرامت
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۱۲
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اپنی حقیقت کے اعتبار سے، ایک اصولی کام ہے۔ اس کا تعلق شریعت کے اصولی معاملات سے ہے۔ جزئی معاملات یا کلچرل شناخت کے معاملات میں امر و نہی کرنے سے اس کا حق ادا نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پر پچھلے کئی سوسال کے دوران جو اسلامی لٹریچر تیار ہوا، اس میں دعوت الی اللہ کو حذف کر دیا گیا، اور علماء اس غلطی کی تصحیح کے لیے نہیں اٹھے۔ پچھلے تقریباً دو سوسال سے علماء، براہ راست یا بالواسطہ طور پر، مسلح جہاد میں مشغول ہیں، اور علماء کی کسی جماعت نے یہ فتوی نہیں دیا کہ مسلح جہاد حکومت کا کام ہے، نہ کہ علماء کا کام۔ مسلم ملکوں میں مختلف جماعتیں اپنے ملک کی حکومتوں کے خلاف ‘‘خروج’’ کی تحریکیں چلا رہی ہیں، لیکن علماء کی کسی جماعت نے یہ فتویٰ نہیں دیا کہ قائم شدہ مسلم حکومت کے خلاف خروج کرنا حرام ہے۔
موجودہ زمانے میں ساری دنیا کے مسلمان غیرمسلم قوموں کے خلاف نفرت کی نفسیات میں مبتلا ہیں، مگر علماء کی کسی جماعت نے کھلے طور پر یہ اعلان نہیں کیا کہ غیرمسلم قومیں ہمارے لیے مدعو کی حیثیت رکھتی ہیں، اور مدعو سے نفرت کرنا جائز نہیں۔ بعد کی صدیوں میں کچھ لوگوں نے غیرمسلم علاقوں کے بارے میں مبتدعانہ طور پر یہ اعلان کیا کہ وہ دارالكفر يا دار الحرب ہیں، لیکن علماء کی کسی جماعت نے نہیں کیا کہ وہ اس تصور کو کھلے طور پر غلط بتائیں اور یہ کہیں کہ ساری دنیا دارالانسان یا دارالدعوہ ہے، کوئی بھی علاقہ نہ دارالكفر ہے اور نہ دار الحرب۔
نہی عن المنکر یا تنہی عن المنکر کوئی پر اسرار لفظ نہیں۔ یہ عین اسی چیز کا نام ہے جس کو عام زبان میں، نقد یا تنقید (criticism) کہا جاتا ہے۔ اسی صفت کو حدیث میں المؤمن مرأة المؤمن (أبو داؤد، کتاب الأدب) کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی ایک مومن دوسرے مومن کے لیے آئینے کی حیثیت رکھتا ہے۔ آئینہ کسی تحفظ (reservation) کے بغیر بے کم و کاست آپ کے چہرے کو دکھا دیتا ہے۔ اسی طرح مومن کو ایسا ہونا چاہیے کہ وہ دوسرے مومن کے بارے میں کھلے طور پر اظہار خیال کرے۔ وہ کھلے طور پر اپنی نصیحت دوسرے کو پہنچادے۔ ایسا اُسی وقت ممکن ہے کہ مسلم معاشرے میں تنقید کو برا نہ مانا جائے، بلکہ تنقید کو کھلے دل کے ساتھ قبول کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues