Al-Risala · January 2010 · page 16

We are already in Paradise

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۱۶

وارسا (Warsaw) سولھویں صدی عیسوی سے پولینڈ کی راجدھانی ہے۔ دوسری عالمی جنگ (1939-1945) میں یہ شہر تقریبا ًپورا تباہ ہو گیا تھا۔ بعد کو اسے قدیم طرز پر دوبارہ تعمیر کیا گیا: وارسا کی تباہی کے بعد دوبارہ قدیم طرز (old pattern) پر اس کی تعمیر اس لیے کی گئی تا کہ وارسا کی تاریخی حیثیت کو باقی رکھا جا سکے۔ یورپین قوموں میں تاریخی ذوق کامل طور پر موجود ہے۔ بد قسمتی سے مسلمانوں میں یہ تاریخی ذوق پیدا نہ ہو سکا۔ اس کا آخری نمونہ یہ ہے کہ بعض انتہا پسند علماء اور رہنماؤں نے ’’ازالہ بدعت‘‘ کے نام پر حجاز کے ان مقدس تاریخی مقامات کو ڈھا دیا جو بعد کی نسلوں کے لیے ایک عظیم پوائنٹ آف ریفرنس کی حیثیت رکھتے تھے، جو زائرین کے لیے ایک ربانی نقطہ فیضان (point of inspiration) کے ہم معنی تھے۔

اسلام میں تاریخی مقامات کی اہمیت کا اندازہ حسب ذیل واقع سے کیا جا سکتا ہے: عطاء خراسانی ایک تابعی ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں کے گھر دیکھے ہیں۔ وہ کھجور کی ٹہنیوں کے تھے۔ ان کے دروازوں پر ٹاٹ کے پردے پڑے ہوئے تھے جو کالے بال سے تیار کیا جاتا تھا۔ اس کے بعد خلیفہ ولید بن عبد الملک اموی کی طرف سے مدینہ کے حاکم کے پاس خط آیا۔ اس خط میں مسجد نبوی کی نئی تعمیر کا حکم تھا اور یہ ہدایت دی گئی تھی کہ ازواجِ رسول کے حجرے تو ڑکر ان کو مسجد نبوی میں شامل کر دیا جائے۔

اس حکم کو معلوم کر کے مدینہ کے بہت سے لوگ روپڑے ۔ حضرت ابو امامہ انصاری نے کہا۔ کاش، یہ حجرے اسی طرح چھوڑ دئے جاتے اور گرائے نہ جاتے، تاکہ لوگ بڑی بڑی عمارتیں بنانے سے رک جاتے، اور وہ یہ دیکھ لیتے کہ اللہ اپنے نبی سے کس چیز پر راضی ہوا، حالاں کہ دنیا کے خزانوں

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page