Al-Risala · January 2010 · page 17

We are already in Paradise

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۱۷

کی چابیاں اس کے ہاتھ میں تھیں (لیتها تُرکت فلم تَهدم حتی يقصر الناس عن البناء، ویروا ما رضي الله لنبيه، ومفاتيح خزائن الدنيا بیدہ۔ طبقات ابن سعد، جلد 1، صفحہ 499) 5 ستمبر 2009 کی دوپہر کو دو بجے وارسا سے کریکو (Krakow) کے لیے روانگی ہوئی۔ وارسا سے کریکو کا فاصلہ تقریباً ڈھائی سو کلومیٹر ہے۔ یہ سفر پولش ائر لائنز (Lot Polish Airlines) کی فلائٹ نمبر 3913 کے ذریعے طے ہوا۔ یہ صرف پچاس منٹ کی پرواز تھی اور اس کا جہاز بھی چھوٹا تھا۔ پرواز کرتے ہوئے جب ہمارا جہاز کریکو کے انٹرنیشنل ائر پورٹ جان پال دوئم (John Paul II) پر اترا تو مسافروں نے تالیاں بجائیں۔ اُس وقت میرا دل بھی جذباتِ شکر سے بھرا ہوا تھا، لیکن میرے ہاتھ دوسروں کی طرح تالی بجانے کے لیے نہیں اٹھے۔

میں نے اس فرق پر غور کیا تو میری سمجھ میں آیا کہ دوسرے لوگ جہاز کے اس طرح منزل پر پہنچنے کو صرف ایک مادی واقعہ سمجھتے ہیں، اس لیے وہ اس پر مادی سطح کا رسپانس (response) دے رہے ہیں۔ لیکن میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہ خالص ایک خدائی واقعہ ہے جو فرشتوں کی مدد سے اپنی کامیابی تک پہنچا۔ میں نے محسوس کیا کہ جس وقت لوگ تالیاں بجارہے تھے، اُس وقت میں خاموش ہو کر خدا کی یاد میں مشغول تھا اور انسان پر خدا کی رحمتوں کو یاد کر کے شکرِ خداوندی کے جذبات سے مغلوب تھا۔ کریکو ائر پورٹ پر ہم کو ریسییو (receive) کرنے کے لیے کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو کے تین افراد موجود تھے۔ ان کے ساتھ سواریاں تھیں۔ وہ ہم کو ائر پورٹ سے لے کر چلے اور شہر کے مشہور ہوٹل (Sheraton Krakow) تک پہنچایا۔ یہاں ہمارے لیے اور ہمارے ساتھیوں کے لیے جدید طرز کے دو کمرے پہلے سے رزرو تھے۔ یہاں دوسری تمام سہولتیں موجود تھیں۔

اس تجربے سے میرا دل بھر آیا۔ میں نے روتے ہوئے کہا۔ خدایا، اسی طرح میری زندگی کا جہاز ایک اور منزل پر پہنچنے والا ہے۔ یہ آخرت کی منزل ہے۔ وہاں بھی تو میرے ساتھ یہ احسان فرما کہ جب میں آخرت کی ابدی منزل پر پہنچوں تو وہاں رحمت کے فرشتے میرا اور میرے ساتھیوں کا استقبال کرنے کے لیے موجود ہوں۔ وہ ہم کو اپنے ساتھ لے کر چلیں اور ہم کو

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page