Al-Risala · April 2010 · page 38

نفسیاتی خودکشی سے بچئے

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۳۸

طور پر عبد اللہ بن احمد النسفی (وفات : 1310ء) نے اپنی تفسیر ”مدارك التنزيل“ میں سورہ الاسراء کی آیت نمبر 1 کے تحت مسجد اقصی کی تشریح کرتے ہوئے لکھا ہے: هو بيت المقدس، لأنه لم يكن حينئذ وراء ہ مسجد (جلد 2، صفحہ 306) یعنی مسجد اقصی سے مراد بیت المقدس ہے، کیوں کہ اُس وقت وہاں کوئی مسجد موجود نہ تھی۔ واضح ہو کہ قرآن کی آیت میں مسجد حرام سے مراد مسجد ہے، لیکن مسجد اقصی سے مراد معروف مسجد نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد عبادت گاہ ہے، یعنی یہودی عبادت گاہ جس کو ہیکل سلیمان (Solomon's Temple) کہا جاتا ہے۔

محمد بن احمد الانصاری القرطبی (وفات : 1273ء) نے اپنی تفسیر ”الجامع لأحكام القرآن“ میں سورہ آل عمران کی آیت نمبر 96 کے تحت مسجد اقصی کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے: وأما المسجد الأقصى، فبناه سليمان عليه السلام، كما خرجه النسائي بإسناد صحيح من حديث عبد الله بن عمرو (جلد 4، صفحہ 173) یعنی جہاں تک مسجد اقصی کا تعلق ہے، تو اس کو سلیمان علیہ السلام نے بنایا تھا، جیسا کہ النسائی نے صحیح اسناد کے ساتھ نقل کیا ہے۔ قاضی محمد ثناء اللہ العثمانی (وفات: 1810ء) نے اپنی تفسیر ”التفسير المظهري“ میں سورہ الاسراء کی اِس آیت کے تحت مسجد اقصی کی تشریح میں یہ الفاظ لکھے ہیں: المسجد الأقصى، یعنی البيت المقدس سُمِّي أقصى لبُعده من المسجد الحرام، ولم يكن حينئذ ورائه مسجد (جلد 5، صفحہ 399) یعنی مسجد اقصی سے مراد بیت المقدس ہے۔ بیت المقدس کو مسجد اقصی کا نام اس لیے دیا گیا کہ وہ مکہ کی مسجد حرام سے دور یروشلم (فلسطین) میں واقع تھی۔ مولانا عبد الماجد دریابادی (وفات: 1977ء) نے اپنی انگریزی تفسیر ”تفسیر القرآن“ میں سورہ الاسراء کی اِس آیت کی شرح کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ـــ یہاں لفظ مسجد سے مراد جگہ (site) ہے، نہ کہ مسجد کی کوئی عمارت :

Masjid: properly denotes the site, not the building of a mosque (Vol. 3, p. 2)

اس معاملے کی مزید تفصیل الرسالہ کے شمارہ، دسمبر 2009 میں صفحہ 41-39 کے تحت دیکھی جاسکتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues

Printed page