Al-Risala · April 2010 · page 39

نفسیاتی خودکشی سے بچئے

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۳۹

3۔ آپ نے لکھا ہے کہ اس مسئلے کو صرف الرسالہ تک محدود نہ کردیا جائے، بلکہ عالمی سطح کے مسلم اور یہودی رہنماؤں کے سامنے اس بات کو ایک پرامن حل کے طور پر پیش کیا جائے، تاکہ اہلِ عقل اس کی روشنی میں مستقبل کی راہوں کا تعین کرسکیں۔

آپ کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ یہ کام بالفعل ہورہا ہے۔ 29-27 اکتوبر 2008 کو اسرائیل کی راجدھانی تل ابیب (Tel Aviv) میں ایک انٹرنیشنل کانفرنس خاص اسی موضوع پر ہوئی۔ اس میں دنیا کے 50 ملکوں کے رہنما شریک ہوئے۔ ان میں ریاست اسرائیل کے صدر مسٹر شمعون پیریز کے علاوہ اعلیٰ سطح کے یہودی، مسیحی اور مسلم رہنما موجود تھے۔ فلسطین کے عرب نمائندے بھی بڑی تعداد میں اس کانفرنس میں شریک تھے۔ اس کانفرنس کی دعوت پر راقم الحروف نے اپنے 6 ساتھیوں کے ہم راہ اس میں شرکت کی، اور وہاں تقریر اور ڈسکشن کے ذریعے اپنا نقطہ نظر لوگوں کے سامنے رکھا۔ اس موقع پر شرکاء کانفرنس کو قرآن کا انگریزی ترجمہ اور اسلامی لٹریچر دیا گیا۔ اس کے علاوہ، خاص اسی موقع کے لیے انگریزی زبان میں 15 صفحات کا ایک پمفلٹ تیار کیا گیا تھا۔ اس کا ٹائٹل یہ تھا: How to Establish Peace in the Holy Land— Ten Point Program یہ پمفلٹ بڑے پیمانے پر کانفرنس کے شرکاء اور مقامی لوگوں کو دیا گیا۔ اس پمفلٹ کو سی پی ایس کی ویب سائٹ (www.cpsglobal.org) پر دیکھا جاسکتا ہے۔

سوال

الحمد للہ میں’’ الرسالہ‘‘ کا مطالعہ گزشتہ دو سالوں سے کر رہا ہوں ۔ الرسالہ کے ہر مضمون سے نفع حاصل ہوتا ہے۔ اب میرے ساتھ یہ معاملہ ہوگیا ہے کہ نہ صرف میں خود الرسالہ پڑھتا ہوں، بلکہ اپنے دوستوں کو بھی پڑھنے کے لیے دیتا ہوں، کیوں کہ الرسالہ میں اسلامی تعلیمات کو اس انداز میں بیان کیا جاتا ہے کہ وہ پڑھنے اور سننے والے کے مائنڈ کو ایڈریس کرے ۔ میرے ذہن میں کچھ سوالات تھے جو مسلسل الرسالہ کا مطالعہ کرنے سے دور ہوگئے، لیکن دورانِ مطالعہ کئی بار ایسا محسوس ہوا کہ چند موضوع پر آپ کے افکار متضاد ہوتے ہیں مگر کبھی اس کے ذکر کی ضرورت محسوس نہ ہوئی۔ مگر گزشتہ دو ماہ

‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues

Printed page