Al-Risala · April 2010 · page 40

نفسیاتی خودکشی سے بچئے

الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۴۰

(جنوری اور فروری 2009) کے الرسالہ میں ایک ہی موضوع پر دو مختلف آراء نے مجھے مجبور کیا کہ اس طرف آپ کی توجہ مبذول کروں۔ جنوری اور فروری 2009 کے الرسالہ کو راقم نے پورا پڑھا۔ جنوری کے شمارہ میں’’ ظاہری تبدیلی، حقیقی تبدیلی‘‘ کے زیر عنوان آپ نے امریکی میگزین ٹائم (17 نومبر 2009) پر شائع براک اوباما کی تقریر کا پہلا جملہ ’’ تبدیلی امریکہ تک پہنچ گئی‘‘ Change has come to America پر اظہار خیال کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’ یہ ایک بے بنیاد بات ہے۔ اصل یہ ہے کہ امریکا میں جو چیز بدلی ہے، وہ صرف وہاں کی صدارت ہے۔ نہ کہ وہاں کے حالات۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ اس طرح کہا جائے کہ Change has come to American Presidency (صفحہ 13)

اسی موضوع پر فروری 2009 کے ’’الرسالہ‘‘ میں آپ رقم طراز ہیں کہ ’’واقعہ بتاتا ہے کہ وائٹ ہاؤس میں وائٹ پریذیڈنٹ کی جگہ ایک بلیک پریذیڈنٹ آ گیا ہے۔ یہ ایک بڑا واقعہ ہے۔ براک اوباما نے جیت کے بعد اپنی پہلی تقریر میں کہا تھا کہ امریکا میں تبدیلی آگئی۔ میں کہوں گا کہ دنیا میں تبدیلی آگئی‘‘ (قبرص کا سفر، صفحہ 34)۔ مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی۔ ایک جگہ آپ کہتے ہیں کہ امریکا میں جو چیز بدلی ہے، وہ صرف وہاں کی صدارت ہے، نہ کہ وہاں کے حالات۔ اور دوسری جگہ آپ صرف امریکا کی تبدیلی کو قبول نہیں کرتے بلکہ اس کے ساتھ دنیا کی تبدیلی خیال کر رہے ہیں۔ جنوری 2009 کے ہی شمارہ میں آپ ایک جگہ لکھتے ہیں کہ ’’لوگ ظاہری تبدیلی کو حقیقی تبدیلی سمجھ لیتے ہیں۔ پانچ سال تک براک اوباما اس طرح پرشور الفاظ بولتے رہیں گے، یہاں تک کہ جب پانچ سال پر ان کا دور صدارت ختم ہوگا تو معلوم ہوگا کہ حقیقی معنوں میں کوئی بھی ایسا کام نہیں ہوا، جس کو تبدیلی (change) کہا جاسکے، امریکا کے اصل مسائل بدستور موجود ہیں، بلکہ اُن میں مزید اضافہ ہوگیا‘‘ (صفحہ 13)۔ مذکورہ دو شماروں میں آپ کے اقتباسات خود ایک دوسرے کو رد کر رہے ہیں۔ آپ سے التماس ہے کہ اس تضاد بیانی سے متعلق وضاحت فرما کر میری الجھن کو دور کریں۔ (شاہد جمیل، بیل گچھیا اردو ہائی اسکول، کولکاتا) جواب آپ کا خط مورخہ 30 مارچ 2009 ملا۔ آپ الرسالہ کو مسلسل اپنے مطالعے میں رکھیں اور ہر

‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues

Printed page