نفسیاتی خودکشی سے بچئے
الرسالہ، اپریل ۲۰۱۰، صفحہ ۴۳
سے تھا۔ جوابات کے تحت بتایا گیا کہ اب یہ اشو ایک تاریخی اشو بن چکا ہے۔ جذباتی تقریریں کر کے اُس لوگوں کو بھڑکانا کوئی صحت مند پالیسی نہیں۔ اس وقت ملک کے سامنے اور ملک کے مسلمانوں کے سامنے زیادہ بڑے اشو ہیں۔ ان میں سب سے بڑا اشو معیاری تعلیم کا ہے جس کا ہمارے یہاں فقدان ہے۔ ایسی حالت میں ضرورت ہے کہ زیادہ حقیقت پسندانہ پالیسی اختیار کی جائے۔ آخر میں ٹی وی چینل کے افراد کو دعوتی لٹریچر دیا گیا۔ 5۔ ہندی روزنامہ ’’امرا جالا‘‘ (نوئیڈا) کے نمائندہ ڈاکٹر گووند سنگھ نے 26 نومبر 2009 کو اپنے اخبار کے لیے صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو لیا۔ انٹرویو کا موضوع یہ تھا: ہندوستانی مسلمان 1947 کے بعد۔ ایک سوال کے جواب میں بتایا گیا کہ مسلمانوں کے تمام مسائل کا واحد سبب ہے — جدید تعلیم میں ان کا پچھڑ جانا۔ بابری مسجد کے سوال پر اُن کو بتایا گیا کہ اس مسئلے کا عملی حل صرف ایک ہے، وہ یہ کہ مسلمان ایک مسجد پر چپ ہو جائیں، اور ہندو ایک مسجد کے بعد دوسری مسجدوں پر چپ ہو جائیں۔ لبراہن کمیشن کی رپورٹ کے بارے میں بتایا گیا کہ اُس سے صورت حال میں کوئی بدلاؤ آنے والا نہیں۔ اس قسم کے مسائل کسی کمیشن کی رپورٹ سے حل نہیں ہوتے۔ 6۔ امریکا کی جارج ٹاؤن یونی ورسٹی (Georgetown University) میں ایک ریسرچ ہوئی ہے، جو کتابی صورت میں شائع ہو گئی ہے۔ یہ ریسرچ 202 صفحات پر مشتمل ہے۔ اس کتاب کا نام یہ ہے: The 500 Most Influential Muslims۔ اس کتاب میں صدر اسلامی مرکز مولانا وحید الدین خاں کو دنیا کا ’’اسپرچول ایمپیسڈر‘‘ قرار دیا گیا ہے:
Maulana Wahiduddin Khan has been called ‘Islam’s Spiritual ambassador to the world’. Khan aims to teach about Islam as a spiritual way of life, an approach that is popular among Indian, both Muslim and non-Muslim. He established the Islamic centre in Delhi in 1970, and has written over 200 books since. (p. 94)
اس کی رپورٹ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (12 دسمبر 2009) میں بھی شائع ہوئی ہے۔ 7۔ زی سلام (Zee TV) کے اسٹوڈیو میں 26 دسمبر 2009 کو صدر اسلامی مرکز کا تفصیلی انٹرویو ہوا۔ سوالات کا موضوع سی پی ایس انٹرنیشنل (نئی دہلی) کے تعارف اور موجودہ مسلمانوں کے مسائل تھا۔ جوابات کے دوران اس موضوع پر تفصیلی روشنی ڈالی گئی۔
8۔ نئی دہلی کے ٹریول پیشن (Travel Passion) کی طرف سے 7 جنوری 2010 کو امریکا کے اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کا ایک گروپ اسلامی مرکز میں آیا۔ اس گروپ کے قائد مسٹر ورون گاندھی (گاندھی جی کے پوتے) تھے۔ یہ لوگ اسلام کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔ اس موقع پر صدر اسلامی نے ’’تعارفِ اسلام‘‘ کے موضوع پر انگریزی زبان میں ایک تقریر کی۔ تقریر کے بعد سوال و جواب کا پروگرام ہوا۔ تقریر کے بعد مسٹر ورون گاندھی نے مائک پر کہا کہ آج میں نے اسلام کے بارے میں اتنا زیادہ سیکھ سکا ہے جو میں نے اپنی 67 سال کی عمر میں کبھی نہ سیکھا تھا۔
‹ Previous page Next page › Contents of April 2010 All issues