Al-Risala · May 2010 · page 4

یاجوج اور ماجوج کے دو دور

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۴

یاجوج اور ماجوج کے بارے میں جو دستیاب معلومات (available data) ہیں، وہ سب سے زیادہ یورپی قوموں پر صادق آتی ہیں۔ یہ معلومات زیادہ تر تمثیل کی زبان میں ہیں، اس لیے لوگوں کو ان کا مفہوم سمجھنے میں دقت پیش آتی ہے۔ اگر اس حقیقت کو ملحوظ رکھا جائے تو تقریباً بلا اشتباہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ یاجوج اور ماجوج سے مراد وہی قومیں ہیں جن کو یورپی قومیں کہا جاتا ہے۔ یہ لوگ حضرت نوح کے بیٹے یافتث (Japheth) کی اولاد سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ لوگ غالباً پہلے مغربی یورپ میں آباد ہوئے، پھر انھیں کی نسلیں امریکا اور آسٹریلیا میں پھیل گئیں۔

قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت نوح کی کشتی جودی پہاڑ پر جاکر ٹھہری تھی (ھود: 44)۔ جودی پہاڑ قدیم ترکی کے سرحدی علاقے میں واقع ہے۔ ترکی، یورپ کا ایک حصہ مانا جاتا ہے۔ حضرت نوح کی کشتی جب یہاں ٹھہری، تو اُس وقت یہاں آپ کی اولاد میں سے تین افراد تھے ــ حام، سام اور یافتث۔ پہلے دونوں افراد، ایشیا اور افریقہ کے علاقے میں آباد ہوئے۔ اور یافتث کی اولاد ابتداً روس کے علاقے میں آباد ہوئی اور پھر بعد کو وہ یورپ کے مختلف ملکوں میں پھیل گئی۔ غالباً مغربی ملکوں میں آباد ہونے والے یہی وہ لوگ ہیں جن کو قدیم کتابوں میں یاجوج اور ماجوج کہا گیا ہے۔ یاجوج اور ماجوج کوئی پر اسرار لوگ نہ تھے، اور نہ وہ ایسے لوگ تھے جن کے لیے خدا نے ابدی طور پر گم رہی مقدر کر دی ہو۔ وہ دوسرے انسانوں کی مانند انسان تھے۔ اُن کے ساتھ جو واقعات پیش آئے، وہ سب عام فطری قانون کے تحت پیش آئے۔

یاجوج اور ماجوج کے دو دور

قرآن میں یاجوج اور ماجوج کا ذکر دو مقامات پر آیا ہے۔ ایک جگہ ذوالقرنین کے حوالے سے (الكهف: 94)، اور دوسری جگہ ذوالقرنین کے حوالے کے بغیر (الأنبياء: 96)۔ ان دونوں آیتوں کے مطالعے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ ان دونوں آیتوں میں یاجوج اور ماجوج کے دو دوروں کا ذکر ہے، جو ایک کے بعد ایک پیش آئیں گے۔

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین نے جو دیوار بنائی تھی، وہ یاجوج اور ماجوج کے ابتدائی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page