یاجوج اور ماجوج کے دو دور
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۵
دوسرے تعلق رکھتی ہے۔ یہ دیوار اُن کی مفسدانہ کارروائی کے لیے ایک روک بن گئی۔ ایک عرصے تک یہ صورتِ حال قائم رہی۔ اس کے بعد یا جوج اور ماجوج کی ابتدائی سرکش نسل ختم ہوگئی اور بعد کی نسل پیدا ہوئی جو نسبتاً معتدل نسل کی حیثیت رکھتی تھی۔
اس دوران ذوالقرنین کی بنائی ہوئی ابتدائی دیوار دھیرے دھیرے ٹوٹ پھوٹ گئی۔ اس کے بعد یا جوج اور ماجوج کی اگلی نسلوں کے لیے یہ ممکن ہوگیا کہ وہ دیوار سے باہر آئیں، اور دیوار کے باہر کی دنیا میں پھیل جائیں۔ یہی دوسرا زمانہ ہے جب کہ اُن کے درمیان تہذیب کا دور شروع ہوا۔ یہ دور مختلف احوال کے درمیان بتدریج ترقی کی طرف بڑھتا رہا۔
یہ بعد کا دور دو زمانوں میں تقسیم ہے—نشأۃ ثانیہ (Renaissance) سے قبل کا زمانہ، اور نشاۃ ثانیہ کے بعد کا زمانہ۔ اسی زمانے میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئی کے مطابق، وہ واقعہ پیش آیا جس کو آپ نے یا جوج اور ماجوج کے بند میں شگاف (فتح اليوم من ردم يأجوج ومأجوج) سے تعبیر کیا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ذوالقرنین نے جو دیوار بنائی تھی، وہ ایک مادی دیوار تھی جو ایک عرصے کے بعد فطری طور پر ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوگئی۔
حدیث میں جس دیوار (رَدْم) میں شگاف ہونے کا ذکر ہے، وہ غالباً مادی دیوار نہیں ہے، بلکہ وہ اُس سے مختلف ہے۔ اس سے مراد فکری دیوار (intellectual barrier) ہے۔ سابق حجری دیوار کے ٹوٹنے سے یا جوج اور ماجوج کو اپنے قریبی علاقے میں پھیلنے کا موقع ملا تھا، لیکن دوسری ’’دیوار‘‘ کا ٹوٹنا زیادہ بڑا واقعہ ہے۔ اُس نے یا جوج اور ماجوج کی نسل کو یہ موقع دیا کہ وہ عالمی سطح پر پھیل جائیں اور حدیث کے الفاظ میں، یہ واقعہ ہو کہ: لا يأتون على شيء إلا أكلوه، ولا يمرّون على ماءٍ إلا شربوه (ابن ماجه، کتاب الفتن) یعنی وہ جس چیز تک پہنچیں گے، اس کو کھا جائیں گے، اور جس ذخیرۂ آب سے گزریں گے، اُس کو پی جائیں گے۔
ذوالقرنین کے بنائے ہوئے مادی بند کے ٹوٹنے کے بعد جو واقعہ پیش آئے گا، اس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وتركنا بعضهم يومئذ يموج في بعض (الكهف: 99)