یاجوج اور ماجوج کے دو دور
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۶
یعنی قدیم محدود جغرافیہ سے نکل کر یاجوج اور ماجوج ، لوگوں سے عمومی اختلاط کرنے لگیں گے۔ یہ گویا اُن کا دورِ اختلاط ہوگا۔ اس کے بعد حدیث میں جس واقعے کا ذکر ہے ، یعنی ان کا ہر چیز کو کھا جانا ، اور ساری دنیا کے پانی کو پی جانا ، اس سے مراد بعد کا وہ واقعہ ہے ، جب کہ انھوں نے نیچر پر فتح حاصل کی اور جدید صنعتی دور پیدا کیا۔ اسی جدید صنعتی دور کے نتیجے میں اُن کو عالمی استحصال کا موقع ملا۔ قرآن کی سورہ نمبر 18 میں یاجوج اور ماجوج کے پہلے دور کا ذکر ہے ، اور قرآن کی سورہ نمبر 21 میں یاجوج اور ماجوج کے دوسرے دور کا ذکر۔ اِس اعتبار سے یہ کہنا صحیح ہوگا کہ بظاہر یاجوج اور ماجوج کے تین بڑے دور ہیں_ محصوریت کا دور ، اختلاط کا دور ، سائنس اور صنعتی ترقی کا دور۔ یاجوج اور ماجوج کوئی پُرجوبہ قوم نہ تھے۔ وہ عام انسانوں جیسے انسان تھے۔ قدیم زمانے میں ذرائع معاش کی قلت کی بنا پر ہر جگہ کچھ ایسے لوگ ہوتے تھے جو لوٹ مار کے ذریعے اپنی معاش حاصل کرتے تھے۔ اس قسم کے لوگ عرب میں بھی تھے جن کو صعالیکُ العرب کہا جاتا تھا ، یعنی عربی قزاق۔ یاجوج اور ماجوج کا گروہ بھی ابتداءً اِسی قسم کا ایک گروہ تھا۔ یاجوج اور ماجوج کی دیوار روایات میں بتایا گیا ہے کہ یاجوج اور ماجوج ، اور بقیہ انسانی دنیا کے درمیان ایک مضبوط دیوار حائل تھی۔ یہ دیوار اِس میں مانع تھی کہ یاجوج اور ماجوج اپنی حد سے نکل کر بقیہ انسانی آبادی میں داخل ہوکر وہاں فساد برپا کریں ۔ یہ دیوار کیا تھی اور وہ کب ٹوٹی ، اس کے بارے میں ایک حدیثِ رسول سے رہ نمائی ملتی ہے۔
روایات میں آیا ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ میں تھے ، غالباً مکہ فتح ہو چکا تھا اور عرب سے بت پرستی کا خاتمہ ہوگیا تھا ، اُس وقت آپ نے ایک خواب دیکھا۔ روایت کے مطابق ، اُس وقت آپ مدینہ میں اپنی اہلیہ زینب بنتِ جحش (وفات 641ء) کے حجرے میں سورہے تھے۔ آپ سوکر اٹھے تو آپ کا چہرہ سرخ تھا۔ اُس وقت آپ نے فرمایا : لا الہ الا اللہ ، ویلٌ للعرب من شرّ قد اقترب ، فتح اليوم من ردم يأجوج ومأجوج (صحيح البخاري، كتاب الفتن)؛