فکری دیوار
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۷
صحیح مسلم، کتاب الفتن ) یعنی لا الہ الا اللہ، خرابی ہے عرب کی، اُس شر سے جو قریب آچکا۔ آج یاجوج اور ماجوج کے بند میں شگاف پڑ گیا۔
فکری دیوار
اس حدیثِ رسول پر اور اس کے بعد بننے والی تاریخ پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں بند (رَدْم) سے مراد غالباً کوئی مادی دیوار (physical barrier) نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد فکری دیوار (intellectual barrier) ہے۔ یہ فکری دیوار وہی ہے جس کو فطرت پرستی (nature worship) کہا جاتا ہے۔ اس عقیدے کا ٹوٹنا ہی بند کا ٹوٹنا تھا، جس کے بعد مغربی قوموں کے لیے تمام ترقیوں کا دروازہ کھلا۔ اس کے بعد وہ اس قابل ہو گئے کہ اپنے علاقے کے باہر کی دنیا میں داخل ہو کر اس میں غلبہ حاصل کر سکیں۔
اصل یہ ہے کہ فطرت (nature) کے اندر اُن تمام ترقیوں کے اسباب چھپے ہوئے تھے، جن کی دریافت کے بعد جدید مغربی تہذیب ظہور میں آئی۔ یہ اسباب ہمیشہ سے فطرت کے اندر موجود تھے، لیکن فطرت کو معبود کا درجہ دے دیا گیا۔ اِس سے فطرت پرستی کا مذہب پیدا ہوا۔ اُس وقت انسان، فطرت کو معبود کی نظر سے دیکھتا تھا، اس لیے وہ اس کی تحقیق اور تفتیش کی جرأت نہ کر سکا۔ ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل میں جب اسلام کے ذریعے توحید پر مبنی انقلاب واقع ہوا، اور فطرت پرستی کی جگہ خدا پرستی کا رواج دنیا میں قائم ہوا، اس کے بعد فطرت کا تقدس (holiness) ٹوٹ گیا۔ اب فطرت (nature) عبادت کے بجائے تسخیر کا موضوع بن گئی۔ یہی جدید مادی تہذیب کا نقطۂ آغاز تھا۔ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے تاریخ توحید میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا کہ توحید کا عقیدہ فکری مرحلے سے گزر کر انقلاب کے مرحلے میں پہنچ گیا۔ ہجرت نبوی کے آٹھویں سال مکہ فتح ہوا، اور کعبہ کو بتوں سے پاک کر دیا گیا۔ اس کے جلدی بعد پورے عرب میں توحید کا دبدبہ قائم ہو گیا، اور پھر بہت کم مدت میں تقریباً پوری دنیا میں یہ واقعہ پیش آیا کہ فطرت پرستی یا تو ختم ہو گئی، یا وہ غیر مؤثر ہو کر گوشہ گیر ہونے پر مجبور ہو گئی۔