فکری دیوار
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۸
اس انقلاب کا اصل پہلو اُس کا مذہبی پہلو تھا۔ وہ اہل اسلام کے ذریعے دنیا میں قائم ہوا۔ اس کا دوسرا پہلو وہ تھا جس کو اُس کا سیکولر پہلو کہا جاسکتا ہے۔ اس دوسرے پہلو کی اشاعت زیادہ تر یورپ میں ہوئی۔ اہل یورپ نے اس کو اپنی خصوصی تحقیق کا موضوع بنایا اور پھر اس کو ترقی کے اعلیٰ درجے تک پہنچادیا۔ مغربی قوموں کے درمیان اس دوسرے پہلو کا فروغ زیادہ طور پر،صلیبی جنگوں (crusades) کے بعد چودھویں صدی عیسوی سے شروع ہوا، اور بیسویں صدی عیسوی کے آخر تک وہ ایک مکمل تہذیب کے مرحلے تک پہنچ گیا۔ وہ چیز جس کو مغربی تہذیب (western civilization) کہا جاتا ہے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے اسلام کے مبنی بر توحید انقلاب کا ایک سیکولرا ایڈیشن ہے۔ فطرت کو پرستش کے مقام سے ہٹانے کا جو کام اسلام نے انجام دیا، اُس کا یہ براہ راست نتیجہ تھا کہ فطرت کی تحقیق اور تفتیش کا عمل شروع ہوگیا۔ یہ عمل ابتدائی طور پر قدیم بغداد اور قدیم قرطبہ، وغیرہ میں مسلمانوں کے درمیان شروع ہو چکا تھا، لیکن صلیبی جنگوں کے بعد یہ کام تمام تر اہل یورپ نے انجام دیا۔ یہی وجہ ہے کہ جدید مادی تہذیب کو مؤرخین عام طور پر اہل مغرب کی طرف منسوب کرتے ہیں۔
ساتویں صدی عیسوی کے نصف اوّل میں جو مذکورہ انقلاب برپا ہوا، وہ دوبارہ ایک نئے انقلاب کا نقطہ آغاز (starting point) تھا۔ اس دوسرے انقلابی عمل کا نقطۂ انتہا (culmination) وہ واقعہ تھا جو موجودہ زمانے میں سائنسی انقلاب کی صورت میں پیدا ہوا۔ موجودہ سائنسی انقلاب بظاہر ایک سیکولر انقلاب تھا، لیکن اپنی اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ گویا اسلامی انقلاب کے ہم معنی تھا۔ قرآن، ساتویں صدی عیسوی کے ربع اول میں اترا۔ قرآن میں بار بار یہ کہا گیا ہے کہ زمین اور آسمان کی چیزوں پر غور کرو۔ اس میں تم خدا کی نشانیاں (signs) پاؤ گے۔ مگر بوقت نزول قرآن، یہ خدائی نشانیاں کلی طور پر ظاہر نہیں ہوئی تھیں، وہ نیچر میں چھپی ہوئی تھیں۔ اس بنا پر، قرآنی غور وفکر کے لیے انسان کے پاس مطلوب فریم ورک موجود نہیں تھا۔ خدا نے چاہا کہ یہ فریم ورک انسان کو حاصل ہوجائے۔ اس معاملے میں سب سے بڑی رکاوٹ قدیم زمانے کا بادشاہی نظام تھا۔ بادشاہی نظام نے کائنات میں آزادانہ غور وفکر کا راستہ بند کر رکھا تھا۔ اس بنا پر یہ بادشاہت خدا کی اسکیم کے خلاف تھی۔