Al-Risala · May 2010 · page 9

مغربی تہذیب کے دو پہلو

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۹

چناں چہ خدا نے اصحاب رسول کے ذریعے تاریخ میں مداخلت کی۔ اپنی نوعیت کے اعتبار سے یہ محض ایک سیاسی تبدیلی کا واقعہ نہ تھا، بلکہ وہ بعد کو ظہور میں آنے والے سائنسی انقلاب کا ابتدائی مرحلہ تھا۔ اُس وقت کے دو بڑے شہنشاہی نظام، بازنطینی ایمپائر، اور ساسانی ایمپائر کو اصحاب رسول کے ذریعے توڑ دیا گیا، تاکہ کھلی فضا میں سائنسی غور و فکر کا آغاز ہو سکے (الأنبیاء: 18)۔ یہی انقلابی واقعہ ہے جس کا ذکر بائبل میں ایک قدیم پیغمبر کی زبان سے پیشین گوئی کے طور پر اس طرح بیان کیا گیا ہے ـــــ اس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہو گئیں۔ ازلی پہاڑ پارہ پارہ ہو گئے۔ قدیم ٹیلے جھک گئے: He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered (Habakkuk 3:6)

یہاں ’’ازلی پہاڑ‘‘ سے مراد وہ سیاسی پہاڑ ہے، جو شہنشاہی نظام کی صورت میں قدیم زمانے سے دنیا میں قائم تھا۔ اسلام کے ذریعے مطلق شہنشاہیت (absolute imperialism) کے اِس نظام کے ٹوٹنے کا ذکر مشہور فرانسیسی مؤرخ ہنری پرین (وفات: 1935) نے اِن الفاظ میں کیا ہے ـــــ اسلام نے زمین کا نقشہ بدل دیا۔ تاریخ کا روایتی ڈھانچہ اکھاڑ کر پھینک دیا گیا: Islam change the face of the globe. The traditional order of history was overthrown. (Henri Pirenne, History of Western Europe, p. 46)

مغربی تہذیب کے دو پہلو

فطرت کے رموز کو آشکارا کرنے کا جو کام اہل مغرب کے ذریعے انجام پایا، اِس کے بھی دو پہلو تھے۔ ایک اعتبار سے وہ خدا کی تخلیق میں چھپی ہوئی نشانیوں (signs) کا اظہار تھا۔ اس کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ اس کے ذریعے انسان کی رسائی لامحدود قسم کی مادی طاقتوں تک ہو گئی۔ مثلاً اہل مغرب کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ وہ پانی کو سٹیم پاور میں تبدیل کر سکیں ۔ وہ لوہے کو متحرک انجن کی شکل دے دیں۔ وہ پٹرول کے ذریعے اڑتی ہوئی سواری (هوائی جهاز) کی ایجاد کریں۔ وہ ماڈرن کمیونیکیشن کے عالمی ذرائع ابلاغ کو وجود میں لائیں، وغیرہ۔

علوم فطرت پر اہل مغرب کی اِس دست رس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اُن کو ساری دنیا میں مادی طور پر غلبے کا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page