معرفتِ اعلیٰ کا امکان
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۰
مقام مل گیا۔ اس غلبے کی بابت دو حوالے یہاں قرآن اور حدیث سے نقل کیے جاتے ہیں۔ قرآن کی سورہ نمبر 21 میں اس سلسلے کی ایک متعلق آیت موجود ہے۔ اس کا ترجمہ یہ ہے: یہاں تک کہ جب یاجوج اور ماجوج کھول دیے جائیں گے، اور وہ ہر بلندی سے نکل پڑیں گے۔
قرآن کی اس آیت میں واضح طور پر اس جدید ظاہر ہ کی طرف اشارہ ہے، جس کو ماڈرن کمیونکیشن (modern communication) کہا جاتا ہے۔ اہل مغرب نے فطرت میں اپنی دریافتوں کے ذریعے انتہائی تیز رفتار ذرائع پیدا کیے۔ پیغامات کی ترسیل، انسانی سفر، اشیاء کے حمل و نقل، ہر چیز میں ایسی غیر معمولی تیز رفتاری آ گئی، جس کا پچھلی نسلوں نے کبھی گمان بھی نہیں کیا تھا۔ رموز فطرت کا انکشاف ایک ایسا کام ہے جس کو مذہبی لوگ اپنے تقدس پرستانہ ذہن کی وجہ سے نہیں کر سکتے تھے۔ اس لیے اس کام کے لیے یاجوج اور ماجوج کا انتخاب ہوا۔ یہ لوگ مکمل طور پر سیکولر لوگ تھے، اور اس بنا پر وہ اس قابل تھے کہ کسی کا کمپلیکس (complex) کے بغیر فطرت کی آزادانہ تحقیق کر کے وہ اس کے اندر چھپے ہوئے رازوں کا انکشاف کریں۔
معرفتِ اعلیٰ کا امکان
حضرت ابراہیم خدا کے پیغمبر تھے جو قبل سائنس دور (pre-scientific age) میں قدیم عراق میں پیدا ہوئے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے ان کو آسمان اور زمین کے ملکوت دکھائے (الأنعام: 76)۔ یہ ایک الہامی مشاہدہ تھا، وہ اس لیے کیا گیا تاکہ انھیں یقین حاصل ہو۔ آسمان اور زمین کے ملکوت کا مشاہدہ تخلیق کا مشاہدہ ہے۔ اس مشاہدہ سے خالق کے بارے میں یقین حاصل ہوتا ہے۔ قبل سائنس دور میں اس قسم کا مشاہدہ صرف الہامی طریقے سے حاصل ہو سکتا تھا۔ موجودہ سائنسی زمانے میں جب دوربین (1608) اور خورد بین (1676) جیسے آلات کے ذریعہ براہِ راست مشاہدہ انسان کے لیے ممکن ہو گیا، تو یقین کا معاملہ ایک نئے دور میں داخل ہو گیا۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ خود علم انسانی کے ذریعے ہر شخص براہِ راست طور پر کائنات میں پھیلی ہوئی خدائی نشانیوں کو دیکھے اور اُس کے ذریعے نیا یقین حاصل کر سکے۔