عالمی دعوت کا دور
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۱
جدید سائنسی انقلاب نے خدا کی معرفت کا ایک نیا علمی دروازہ ہر انسان کے لیے کھول دیا۔ اب یہ ممکن ہو گیا کہ ہر انسان اپنے براہِ راست مطالعہ اور مشاہدہ کے ذریعے تخلیق کے اندر موجود، خالق کی شہادتوں (evidences) کو جان سکے ۔ اس سائنسی انقلاب کے ذریعے جو خدائی نشانیاں (divine signs) انسان کے اوپر کھلیں، انھوں نے اعلیٰ خدائی معرفت کے حصول کو آخری انسان کے لیے ممکن بنا دیا۔ اللہ کے بہت سے بندوں کو اس سے معرفت حاصل ہوئی۔ مگر اس دنیا میں خیر کی قوتوں کے ساتھ شر کی قوتیں ہمیشہ سرگرم رہتی ہیں۔ اسی کو زرتشت (وفات: 551 ق م) نے ان الفاظ میں بیان کیا تھا : The world is a perpetual battle ground of good and evil forces. چناں چہ عین اُس وقت کچھ بڑے بڑے ذہن پیدا ہوئے جن کے پیدا کردہ افکار عملاً انسان کو دوبارہ معرفتِ خداوندی سے دور کرنے کا ذریعہ ثابت ہوئے ۔ اس واقعہ کی پیشگی خبر حدیث میں اس طرح دی گئی تھی کہ بعد کے زمانے میں ایک دجال (great deceiver) پیدا ہوگا جو لوگوں کو اپنی پُر فریب باتوں سے گمراہی میں ڈال دے گا (بعض احادیث میں تیس دجالوں کا ذکر ہے)۔ دجال یا دجالیت کیا ہے ۔ اس سے مراد دراصل غلط تعبیر (misinterpretation) کی فکری گمراہی ہے جو دورِ دجال میں زیادہ بڑے پیمانے پر ظاہر ہوگی۔
عالمی دعوت کا دور
اس دور میں انجام دیے جانے والے مثبت کام کا دوسرا پہلو عالمی دعوت ہے۔ اس عالمی دعوت کی پیشگی خبر ایک حدیثِ رسول میں اس طرح دی گئی تھی : لا يبقیٰ علی ظهر الأرض بيت مَدَرٍ، ولا وَبَرٍ إلا أدخله الله كلمة الإسلام (مسند احمد، جلد 6، صفحہ 4)۔ یعنی زمین کی سطح پر کوئی بھی خیمہ اور مکان ایسا نہیں باقی رہے گا جس میں خدا ، اسلام کا کلمہ داخل نہ کر دے۔ دنیا کے تمام گھروں میں کلمہ اسلام کا داخلہ کسی پر اسرار ذریعے سے نہیں ہوگا ۔ یہ واقعہ مکمل طور پر معلوم وسائل کے ذریعے انجام پائے گا، یعنی پیغام رسانی کے عالمی وسائل کے ذریعے ۔ موجودہ زمانے کو کمیونیکیشن کا دور (age of communication) کہا جاتا ہے ۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ