عالمی دعوت کا دور
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۲
موجودہ زمانے میں پہلی بار ابلاغ کے عالمی وسائل انسان کے تصرف میں آئے ہیں۔ سائنسی انقلاب سے پہلے اس قسم کی عالمی دعوت ممکن ہی نہ تھی۔
موجودہ زمانے میں دجال نے جدید ذرائع ابلاغ کو استعمال کر کے ساری دنیا کو منفی پروپیگنڈوں سے بھر دیا ہے۔ ساری دنیا منفی سوچ کے اندھیرے میں جی رہی ہے۔ یہی وہ صورتِ حال ہے جس کو حدیث میں بطور پیشین گوئی فتنة الدَّهَيْماء (أبو داؤد، كتاب الفتن) کہا گیا تھا، یعنی سخت قسم کا تاریک فتنہ۔ اس تاریک فتنے سے مراد ایک عظیم فکری اندھیرا (intellectual darkness) ہے۔ یہ فتنہ جدید ذرائع ابلاغ کے منفی استعمال کے نتیجے میں ظاہر ہوگا۔
جدید ذرائع ابلاغ کا مثبت استعمال دعوتِ حق کی عالمی اشاعت ہے۔ یہ اشاعت ملٹی میڈیا (multi-media) کے ذریعے انجام پائے گی۔ ملٹی میڈیا کے ذریعے دعوت کی مؤثر اشاعت کرنے والے ہی کو غالباً حدیث میں مہدی، یا رجلِ مومن کہا گیا ہے۔ جدید وسائل کا منفی استعمال کرنے والے کا علامتی نام دجال ہے، اور جدید وسائل کا مثبت استعمال کرنے والے کا علامتی نام مہدی۔ مغرب کا دورِ عروج مغربی قوموں نے جدید کمیونیکیشن کو لمبی جدوجہد کے بعد دریافت کیا تھا۔ اس کا فطری نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے فائدے کا بڑا حصہ (lion's share) مغربی قوموں کو ملا۔ اس کے ذریعے انھوں نے پہلے نو آبادیات (colonialism) کا دور پیدا کیا، پھر اسی کا یہ نتیجہ ہوا کہ وہ عالمی مواصلاتی سیطرہ وجود میں آیا جس کو گلوبلائزیشن (globalization) کہا جاتا ہے۔ انھوں نے پوری دنیا کو ایک گلوبل ویلج (global village) کی حیثیت دے دی، جس کی مرکزی طاقت فطری طور پر اہل مغرب خود تھے۔ اس معاملے کا دوسرا پہلو وہ ہے جو ایک حدیثِ رسول سے بطور پیشین گوئی معلوم ہوتا ہے۔ یہ ایک لمبی حدیث ہے جو یا جوج اور ماجوج کے تذکرے کے ذیل میں آئی ہے۔ اُس کے ایک حصے کا ترجمہ یہاں درج کیا جاتا ہے:
"ابوسعید خدری سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا—یاجوج اور ماجوج کو