Al-Risala · May 2010 · page 13

عالمی دعوت کا دور

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۳

کھولا جائے گا، پھر وہ لوگوں کی طرف نکلیں گے۔ جیسا کہ قرآن میں آیا ہے (وہم من كلّ حدب ينسلون)۔ پھر وہ لوگوں کے اوپر چھا جائیں گے۔ اہل ایمان اُن سے بچنے کے لیے اپنے شہروں اور اپنی پناہ گاہوں میں چلے جائیں گے اور اپنے مویشیوں کو وہ اپنے ساتھ لے جائیں گے۔ یاجوج اور ماجوج زمین کا سارا پانی پی جائیں گے (ويشربون مياه الأرض)۔ اُن میں سے کچھ لوگ ایک دریا کے پاس آئیں گے اور اس کا پانی پی کر اس کو خشک کر دیں گے، پھر کچھ لوگ اُس دریا سے گزریں گے، تو وہ اس کو دیکھ کر کہیں گے کہ کبھی یہاں پانی موجود تھا۔ زمین کے صرف وہ لوگ یاجوج اور ماجوج سے بچیں گے جو اپنے شہر یا اپنی پناہ گاہ میں تھے۔ پھر یاجوج اور ماجوج میں سے کوئی شخص کہے گا: ہم زمین والوں سے فارغ ہو گئے، اب آسمان والے باقی ہیں (هؤلاء أهل الأرض قد فرغنا منهم، بقي أهل السماء)۔ پھر اُن میں سے کوئی شخص اپنے حربہ کو حرکت دے گا اور وہ اس کو آسمان کی طرف پھینکے گا، اس کے بعد وہ حربہ ان کی آزمائش کے لیے خون آلود ہو کر ان کی طرف لوٹ آئے گا۔ (مسند احمد، جلد 3، صفحہ 77) وضاحت اس حدیث میں واضح طور پر اُس حقیقت کی طرف اشارہ ہے جو یورپ کی نشاۃ ثانیہ (Renaissance) کے بعد بتدریج عالمی سطح پر ظاہر ہوئی۔ اس کے بعد اقتصادیات کی دنیا میں ایک نیا واقعہ پیش آیا جس کو اقتصادی انفجار (economic explosion) کہا جا سکتا ہے۔ اس جدید اقتصادی انفجار کا سرِمکمل طور پر مغربی قوموں کے ہاتھ میں تھا۔ اس کے ذریعے انھوں نے زمین کے تمام مادیّ ذخائر پر اجارہ داری (monopoly) حاصل کر لی۔ ’’دریا کا پانی پی جانے‘‘ سے مراد غالباً پٹرول کے ذخائر ہیں۔ ان ذخائر کا بڑا حصہ مشرقی دنیا میں تھا، لیکن جس انڈسٹری میں ان کی کھپت تھی، وہ زیادہ تر مغربی دنیا میں واقع تھیں۔ اس لیے اہل مغرب کو یہ موقع ملا کہ وہ تیل کے قدرتی ذخیروں کو اپنے یہاں لے جا کر ان کو بھر پور طور پر استعمال کر سکیں۔

حدیث میں مزید بتایا گیا ہے کہ یاجوج اور ماجوج جب زمین کا سارا پانی پی چکے ہوں گے تو وہ آسمان کی طرف رخ کریں گے۔ اس سے مراد غالباً مختلف قسم کے خلائی راکٹ ہیں۔ مغربی قوموں نے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page