Al-Risala · May 2010 · page 14

سیکولر گروہ کے ذریعے دین کی تائید

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۱۴

کائنات میں زمین جیسے کسی گرہ (planet) کی کھوج میں کثرت سے اپنے تفتیشی راکیٹ خلا میں بھیجے، جو کیمروں اور مختلف قسم کے آلات سے لیس تھے، مگر وہ کھوج کے باوجود خلا میں زمین جیسا کوئی دوسرا کرہ دریافت نہ کر سکے۔ —مذكوره حديث تمثيل کی زبان میں واضح طور پر ان حالات کو بتا رہی ہے جو موجودہ زمانے میں مغربی قوموں کے ذریعے پیش آئے۔

سیکولر گروہ کے ذریعے دین کی تائید

صحیح البخاری میں ایک لمبی روایت نقل ہوئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں غزوہ خیبر (7 ہجری) پیش آیا۔ اس غزوہ میں ایک آدمی نے نہایت بہادری کے ساتھ جنگ کی، یہاں تک کہ مسلمانوں کو فتح حاصل ہوئی۔ مسلمان اس شخص کے کارنامے سے متاثر ہوئے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کے بارے میں فرمایا کہ وہ آگ میں جانے والوں میں سے ہے۔ لوگوں کو اس پر شک ہوا تو آپ نے فرمایا کہ جاکر معاملے کی تحقیق کرو۔ تحقیق کے بعد معلوم ہوا کہ اگرچہ اُس نے نہایت بہادری کے ساتھ جہاد کیا تھا، لیکن آخر میں اُس نے خودکشی کر کے اپنی جان دے دی۔ چوں کہ خودکشی کی موت حرام موت ہے، اس لیے آپ نے فرمایا کہ وہ اہل نار میں سے ہے (هذا من أهل النار)۔ اس کے بعد آپ نے اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: إِنّ الله ليؤيد هذا الدّين بالرّجل الفاجر (صحيح البخاري، كتاب الجهاد والسّير، باب : إن الله يؤيد الدين بالرّجل الفاجر) یعنی خدا ضرور تائید کرے گا اس دین کی فاجر انسان کے ذریعے ۔ اس حدیث سے ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے، وہ یہ کہ اس دنیا میں کوئی چیز شر مطلق نہیں ہوتی، یہاں ہر شر میں خیر کا پہلو شامل رہتا ہے۔ کچھ‘‘ فاجر‘‘ لوگ اگر اپنے مقصد کے تحت کوئی کام کریں تو اس کا فائدہ صرف اُنھیں کو نہیں ملے گا، بلکہ اُن کے کام میں ایسے مزید پہلو شامل ہوں گے جن کا فائدہ دین حق کے حصے میں بھی آجاۓ گا۔ یہ فطرت کا ایک قانون ہے اور اس میں کوئی استثنا نہیں۔ یہی صورت یاجوج اور ماجوج کے معاملے میں پیش آۓ گی۔ یاجوج اور ماجوج کا گروہ، مذہبی معنوں میں، کوئی صالح گروہ نہیں ہوگا، لیکن وہ اپنے عمل سے جو تبدیلی زمین میں لائے گا، اُس میں اگر

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page