Al-Risala · May 2010 · page 26

نفرت اور شکایت

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۶

مطلب یہ تھا کہ دجال کا ظہور بعید خبر رسانی (telecommunication) کے زمانے میں ہوگا۔ وہ اگرچہ عام انسانوں کے مانند ہوگا، لیکن مشینی مواصلات کے ذریعے اس کے لیے ممکن ہوگا کہ وہ اپنی آواز کو ساری دنیا کے لوگوں تک پہنچا سکے۔ روایت کے مذکورہ الفاظ دراصل، دجال کے زمانی مواقع کو بتا رہے ہیں، نہ کہ مادی معنوں میں خود دجال کی اپنی شخصیت کو۔

آثارِ قیامت کی روایات کو تمثیل پر محمول کرنے کا سبب اس بحث کا ایک فیصلہ کن پہلو یہ ہے کہ قرب قیامت کے بارے میں قرآن میں واضح بیانات موجود ہیں۔ مثلاً فرمایا کہ قیامت بالکل اچانک واقع ہوگی (الأعراف : 187)۔ اِسی طرح قرآن کی ایک اور آیت میں ہے کہ : ”بے شک قیامت آنے والی ہے۔ میں اُس کو مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تا کہ ہر شخص کو اس کے عمل کا بدلہ دیا جائے۔ “ (طٰهٰ: 15) اس آیت کی تفسیر میں ابن کثیر نے عبد اللہ بن مسعود کا یہ قول نقل کیا ہے : کتمتھا من الخلائق، حتى لو استطعت أن أكتمها من نفسي لفعلتُ (اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ میں نے قیامت کو تمام مخلوق سے مخفی رکھا ہے، حتی کہ اگر اپنے آپ سے اس کو مخفی رکھنا ممکن ہوتا تو میں خود اپنے آپ سے اس کو مخفی رکھتا۔

علماء اصول کا موقف یہ ہے کہ اگر کوئی حدیث قرآن سے متعارض نظر آئے تو قرآن کو اصل قرار دیا جائے گا اور حدیث کی تاویل کی جائے گی۔ ایسی حالت میں خالص علمی اعتبار سے، تاویل کی صرف ایک بنیاد ہے، اور وہ یہ کہ اس معاملے میں قرآن کے بیان کو اصل قرار دیا جائے اور حدیث کے بیان کو تمثیل پر محمول کیا جائے ۔ اس تعارض کو ختم کرنے کی دوسری کوئی اور صورت نہیں۔ مواقع کا منفی استعمال دجال کا اصل کام یہی ہوگا کہ وہ اپنے زمانے کے مواقع (opportunities) کا منفی استعمال کر کے لوگوں کو مغالطے میں ڈالے اور اس طرح لوگو ں کی سوچ کو خدا کی طرف سے ہٹا کر غیر خدا کی طرف پھیر دے۔ دجالی کا یہ کام سیکولر میدان میں بھی ہوگا اور مذہبی میدان میں بھی۔ یہاں چند مثالوں کے ذریعے اس کی وضاحت کی جارہی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page