نظریہ ارتقاء
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۷
نظریہ ارتقاء
عضویاتی ارتقاء (organic evolution) کا نظریہ اسی قسم کا ایک دجالی نظریہ ہے۔ چارلس ڈارون (وفات: 1882) اور دوسرے علمائے حیاتیات نے یہ دریافت کیا کہ مختلف انواعِ حیات کے جسمانی ڈھانچے میں بہت زیادہ مشابہتیں (similarities) پائی جاتی ہیں۔ مثلاً بلی اور شیر کے جسمانی ڈھانچے میں مشابہت، وغیرہ۔ ان مشابہتوں سے انھوں نے یہ نظریہ وضع کیا کہ حیاتیات کی دنیا میں ایک ارتقائی عمل واقع ہوا ہے۔ اس عمل کے دوران ایک قسم کی انواعِ حیات، عضویاتی ارتقاء کے نتیجے میں خود بخود دوسری قسم کی انواعِ حیات میں تبدیل ہوتی چلی گئیں۔
یہ بلاشبہ مغالطے کا ایک معاملہ تھا۔ انواعِ حیات کے درمیان مشابہتوں سے جو چیز ثابت ہوتی ہے، وہ صرف انواع میں تنوع (variety) ہے، یعنی ہر نوع الگ الگ خصوصی تخلیق کے ذریعے وجود میں آئی۔ البتہ خالق نے انواع کی تخلیق کے لیے ایک دوسرے سے مشابہ جسمانی ڈھانچہ اختیار کیا۔ گویا کہ مشاہدہ صرف تنوع کو ثابت کر رہا تھا، لیکن اس کی مغالطہ آمیز توجیہہ کرکے عضویاتی ارتقاء کا دعویٰ کر دیا گیا۔ اس نظریے میں بظاہر خدا کا انکار نہیں ہے، لیکن عملاً وہ خدا کو زندگی سے بے دخل کر دینے کے ہم معنی ہے۔ نظریہ ارتقاء کے مطابق، زندگی کا پورا عمل، طبیعی انتخاب (natural selection) کے ذریعے اپنے آپ ہورہا ہے۔ یہ نظریہ، خدا کو زندگی کے معاملے میں اتنا زیادہ بے اثر بنا دیتا ہے کہ خدا کو ماننا اور نہ ماننا دونوں یکساں ہوکر رہ جاتے ہیں۔ موجودہ زمانے میں ہم دیکھتے ہیں کہ خدا کا عقیدہ عملی زندگی میں بالکل غیر موثر ہوکر رہ گیا ہے۔ اس صورت حال کا سب سے بڑا سبب یہی نظریہ ارتقاء ہے۔ تاریخ کی مادی تعبیر علومِ قطعیہ (exact sciences) کا معاملہ سادہ طور پر صرف حقائق فطرت کی دریافت کا معاملہ تھا۔ یہ کام طبیعیاتی سائنس دانوں نے انتہائی غیر جانب داری کے ساتھ انجام دیا۔ سائنس دانوں نے فطرت کے جو حقائق دریافت کیے، وہ اصلاً آفاق اور انفس میں خدائی نشانیوں (divine signs) کے ظہور کے ہم معنی تھے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے وہ جدید الہیات