Al-Risala · May 2010 · page 28

نظریہ ارتقاء

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۲۸

(modern theology) کے لیے معلوماتی مواد (data) کی حیثیت رکھتے تھے۔ عین اُسی زمانے میں سیکولر فلاسفہ اور مفکرین کا ظہور ہوا۔ انھوں نے سائنس کے معلوماتی مواد کا استعمال منفی انداز میں کیا۔ انھوں نے انسانی تاریخ کی مادی تعبیر پیش کرنے کی کوشش کی۔ اِس فکری کی نمائندگی جولین ہکسلے (وفات: 1975) کی کتاب میں کی گئی ہے، جس کا نام با معنیٰ طور پر یہ ہے مذہب بغیر الہام: Religion Without Revelation. (1927)

موجودہ زمانے میں جس طرح طبیعی علوم (physics) میں اہلِ مغرب نے دنیا کی قیادت کی، اُسی طرح زندگی کی نظریاتی تشریح کے معاملے میں بھی اہلِ مغرب دنیا کے قائد بن گئے۔ گویا کہ زندگی اور کائنات دونوں کی تشریح کا کام اہلِ مغرب نے انجام دیا۔ اہلِ مشرق کے لیے اِس معاملے میں اِس کے سوا کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اہلِ مغرب کے مقلّد بن جائیں۔

اِس معاملے میں اہلِ مغرب نے جو فکری کام انجام دیا، اْس کو ایک لفظ میں تاریخ کی مادی تعبیر (material interpretation of history) کہا جا سکتا ہے۔ اِس دور میں مغربی دنیا میں کثرت سے فلاسفہ اور مفکرین پیدا ہوئے۔ انھوں نے اور ان کے ساتھیوں نے جدید ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے پوری دنیا کے ذہن کو متاثر کرنے کا کام کیا۔ یہ واقعہ غلط تعبیر (misinterpretation) کے نتیجے میں پیش آیا۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ علما ء مذہب اِس سلسلے میں اپنا تعمیری رول ادا کرنے میں ناکام رہے۔ تفریحی کلچر موجودہ زمانے میں ہر طرف تفریحی کلچر (entertainment culture) کا رواج ہے۔ ہر عورت اور مرد صرف ایک بات کو جانتے ہیں، اور وہ ہے زندگی کو بھر پور انجوائے (enjoy) کرنا۔ آج کل لوگوں کا سب سے زیادہ مقبول فارمولا یہ ہے کہ— ابھی اور اسی وقت (right here, right now)۔ موجودہ زمانے میں اِس نظریے پر بڑی بڑی کتابیں لکھی گئی ہیں۔ ان مصنفین میں سے ایک علامتی نام سگمنڈ فرائڈ (وفات: 1939) کا ہے۔ اْس نے اِس نظریے کی زبردست وکالت کی۔ اْس نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ انسان کے اندر جو خواہشات (desires) ہیں، انھیں پر انسانی

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page