مکمل دین کا نظریہ
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۳۴
بے فائدہ کام کو چھوڑ کر پُر امن دعوت اور تعلیم کا کام کریں، جس میں بہت زیادہ مواقع موجود ہیں۔ جمال الدین افغانی نے اس کے جواب میں کہا: إنما أنت مثبّط (جمال الدین افغانی، محمود أبو ريّة، قاهرة 1966، صفحہ (50) یعنی تم تو پسپائی کی بات کرتے ہو۔
یہ بلاشبہ ایک بھیانک ٹریجڈی تھی۔ یہ ٹریجڈی پولٹیکل انٹرپریٹیشن کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ پولٹیکل انٹرپریٹیشن کے دو سنگین نتائج نکلے ۔ جدید دعوتی مواقع کا استعمال نہ ہونا، اور پولٹیکل انقلاب کے نام پر نفرت اور تشدد کلچر کا رواج۔ دین کی اس سیاسی تعبیر کا یہ منفی نتیجہ نکلا کہ دعوت الی اللہ کا کام عملاً معطل ہو گیا۔ تمام لوگ بزعم خود مفروضہ مکمل اسلامی نظام برپا کرنے میں مصروف ہو گئے، جو قانون فطرت کے تحت سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔ اس طرح ایک ناممکن کے حصول کی کوشش کا منفی نتیجہ نکلا کہ جو کام پوری طرح ممکن تھا، وہ بھی نہ ہوسکا، یعنی پر امن دعوہ ورک۔ نئے پیغمبر کی ضرورت اسی طرح، مذہب میں اس معاملے کی ایک مثال اُن لوگوں کا دعویٰ ہے، جنھوں نے یہ کہا کہ بیسویں صدی عیسوی میں حالات بدل گئے ہیں، اس لیے اب ہمیں ایک نئے پیغمبر کی ضرورت ہے۔ یہ نظریہ پیش کر کے انھوں نے نئی پیغمبری کا دعویٰ کر دیا۔ یہ پورا معاملہ مغالطہ آمیزی کا معاملہ ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ حالات کے بدلنے سے کبھی کوئی نیا پیغمبر نہیں آتا۔ حالات میں تبدیلی صرف اجتہاد کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے، نہ کہ نئے پیغمبر کی ضرورت کو۔ کوئی پیغمبر جب آتا ہے تو وہ ہمیشہ دو میں سے ایک سبب کی بنا پر آتا ہے— یا تو یہ کہ وہاں کوئی پیغمبر سرے سے نہ آیا ہو، اس لیے نبوت کے فقدان کی بنا پر وہاں کوئی نبی بھیجا جائے۔ یا یہ کہ پچھلے نبی کی تعلیمات میں تحریف ہوگئی ہو، اس بنا پر خدائی مذہب کا مستند ماخذ موجود نہ رہے۔ موجودہ زمانے میں دونوں میں سے کوئی ضرورت پائی نہیں جاتی۔ اب نبی آخر الزماں محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کی صورت میں ایک ایسا پیغمبر آ چکا ہے، جو یکساں حیثیت سے تمام دنیا کے لیے ابدی طور پر خدا کا پیغمبر ہے۔ دوسرے یہ کہ اس پیغمبر کی تعلیمات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔ اس لیے اب نبوت کی مذکورہ دونوں ضرورتوں میں سے کوئی بھی ضرورت یہاں موجود نہیں۔