مہدی یا رجل مومن
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۳۵
حالات کی تبدیلی بطور واقعہ درست ہے، مگر اس کا حقیقی تقاضا یہ ہے کہ پیغمبر آخرالزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کو مجتہدانہ کوشش کے ذریعے ازسرنو لوگوں کے سامنے اس طرح لایا جائے کہ وہ جدید ذہن کے لیے پوری طرح قابل فہم بن سکیں۔ لوگوں کو نظر آئے کہ آپ کی تعلیمات آج کی دنیا کے لیے بھی اتنا ہی متعلق (relevant) ہیں، جتنا کہ وہ اس سے پہلے تھیں۔ حالات کی تبدیلی نئے اجتہاد کی ضرورت کو ثابت کرتی ہے، نہ کہ نئے پیغمبر کی۔
مہدی یا رجل مومن
اب اس دور کے اُس مثبت کردار کو لیجیے، جس کا ذکر حدیث میں مہدی، یا رجل مومن کے الفاظ میں کیا گیا ہے۔ یہ کردار بھی کوئی پراسرار کردار نہیں۔ یہ ایک معلوم کردار ہے جس کو عام اصولوں کے تحت مطالعہ کر کے سمجھا جا سکتا ہے۔ مہدی، یا رجل مومن کے ذریعے ادا کیے جانے والے مثبت کردار کے دو پہلو ہیں۔ معرفت، اور دعوت، یعنی نئے دریافت کردہ حقائق کی روشنی میں معرفتِ اعلیٰ کا حصول، اور اسی طرح نئے حاصل شدہ ذرائع کی مدد سے اسلام کی دعوت کو موثر انداز میں عالمی سطح پر پھیلانا۔ یہ دونوں پہلو قرآن اور حدیث میں پیشگی طور پر بیان کر دیے گئے ہیں۔ جدید دریافتوں کے ذریعے معرفتِ اعلیٰ کے حصول کا امکان قرآن کی سورہ نمبر 41 میں پیشگی طور پر بیان کر دیا گیا تھا۔ اس آیت کا ترجمہ یہ ہے: ’’عن قریب مستقبل میں ہم، لوگوں کو اپنی نشانیاں دکھائیں گے، آفاق میں بھی اور انفس میں بھی، یہاں تک کہ اُن پر پوری طرح یہ کھل جائے کہ یہ (قرآن) حق ہے‘‘ (حم السجدة: 53)۔
قرآن کی یہ آیت ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اول میں اتری تھی۔ اُس وقت پیشگی طور پر یہ خبر دی گئی تھی کہ آئندہ ایسا ہو گا کہ کائنات میں چھپی ہوئی خدائی نشانیاں انسانی تحقیق کے نتیجے میں دریافت کی جائیں گی۔ یہ نشانیاں خود علم انسانی کی سطح پر قرآن کی صداقت کو ثابت کریں گی۔ یہ پیشین گوئی موجودہ زمانے میں واقعہ بن چکی ہے۔ اس طرح، کام کا ابتدائی پچاس فی صد حصہ انجام پا چکا ہے۔ اب مہدی، یا رجل مومن کا کام یہ ہے کہ وہ ان حقائق کو جانے، اور بقیہ پچاس