Al-Risala · May 2010 · page 36

مہدی کی پہچان

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۳۶

کی صد حصّے کی تکمیل کر کے ان کو معرفتِ اعلیٰ کے حصول کا ذریعہ بنائے۔

مہدی کی پہچان

مہدی جب ظاہر ہوگا تو اس کی پہچان کیا ہوگی۔ یہ پہچان حدیث کے مطابق، خود اس کے لقب میں موجود ہے۔ مہدی صرف ایک لقب ہے، وہ اُس کا اسم ذات نہیں۔ مہدی کا لفظی مطلب ہے ـــ ہدایت پایا ہوا شخص (guided person)۔ مہدی کا لفظی معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ مثبت معنی میں ہے۔ اِس اعتبار سے مہدی کا لفظی مطلب ہوگا ـــ صحیح ہدایت پایا ہوا شخص (rightly guided person)۔ حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ مہدی کا ظہور، فتنة دُہماء (تاریک فتنه) کے زمانے میں ہوگا۔ اُس وقت تمام لوگ معرفتِ حق کے بارے میں اندھیرے میں پڑے ہوئے ہوں گے۔ ایسے تاریک دور میں معرفتِ حق کی روشنی کسی کو صرف خدا کی خصوصی توفیق سے مل سکتی ہے، یعنی وہی طور پر، نہ کہ اکتسابی طور پر۔ سیاہ فتنے کے دور میں کوئی شخص نہ بطور خود سچائی کو پاسکے گا اور نہ وہاں دوسرا کوئی شخص موجود ہوگا جو اُس کو سچائی کی روشنی دکھائے۔ حقیقت یہ ہے کہ فتنة دُہماء کے دور میں کسی کو صرف خداوند ذوالجلال کی طرف سے ہدایت مل سکتی ہے۔

مہدی کا مہدی ہونا، اپنے آپ میں بتا رہا ہے کہ مہدی کی پہچان کیا ہے۔ وہ پہچان یہ ہے کہ مہدی اپنے ماحول کے برعکس، استثنائی طور پر ایک ہدایت یاب انسان ہوگا، جب کہ لوگ عمومی طور پر ہدایتِ حق سے محروم ہو چکے ہوں گے۔ مہدی ایک استثنائی انسان کا نام ہے، اور یہی استثناء وہ چیز ہے جس کے ذریعے پہچاننے والے اس کو پہچانیں گے۔ مہدی نہ خود اپنے مہدی ہونے کا دعویٰ کرے گا، اور نہ آسمان سے یہ آواز آئے گی کہ فلاں شخص مہدی ہے، اس کو مانو اور اس کا اتباع کرو۔ فتنة دُہماء فتنة دُہماء کے لفظی معنی ہیں ــــ سخت سیاہ اور تاریک فتنه (الفتنة السّوداء المظلمة. لسان العرب 211/12)۔ یہاں سوال یہ ہے کہ وہ کیا چیز ہوگی جو اس عمومی سیاہی یا تاریکی کا سبب بنے گی۔ کیوں ایسا ہوگا کہ لوگ اپنے آپ کو فکری اعتبار سے تاریکی کے جنگل میں بھٹکتا ہوا محسوس

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page