Al-Risala · May 2010 · page 37

مہدی کی پہچان

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۳۷

کریں گے ۔ اس پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ اُس وقت پیش آئے گا، جب کہ لکھے اور بولے ہوئے الفاظ کی بہت زیادہ کثرت ہو جائے گی ۔

تاریخ بتاتی ہے کہ اس قِسم کے حالات پہلی بار موجودہ زمانے میں پیش آئے ہیں۔ موجودہ زمانے میں جب پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا اور الیکٹرانک میڈیا کا رواج عمل میں آیا ، تو تاریخ میں پہلی بار یہ واقعہ پیش آیا کہ بے شمار کتابیں چھپ کر ہر جگہ پھیل گئیں ۔ اِسی کے ساتھ ریڈیو اور ٹی وی اور انٹرنیٹ کے ذریعے الفاظ کی ایک نئی دنیا میں وجود میں آگئی ۔ انٹرنیٹ پر مختلف قِسم کی جو معلومات ڈالی جارہی ہیں، وہ اتنی زیادہ ہیں کہ ہر دومنٹ میں اس کے اندر پانچ ہزار صفحات سے زیادہ معلومات کا اضافہ ہو جاتا ہے ۔ یہی معاملہ مطبوعہ کتابوں کا ہے ۔

ایک روایت ، حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے ۔ اس میں بعد کے زمانوں کا ذکر کرتے ہوئے پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فتنة اللّسان فيها أشدّ من السّيف (أبوداؤد، كتاب الملاحم ) یعنی ایک زمانہ آئے گا ، جب کہ زبان یا الفاظ کا فتنہ تلوار کے فتنے سے بھی زیادہ خطرناک ہو جائے گا۔ موجودہ زمانے میں الفاظ کا یہ فتنہ اپنی آخری صورت میں سامنے آچکا ہے۔ موجودہ زمانے میں جو چیز سب سے زیادہ گم راہی کا سبب بن رہی ہے، وہ بلاشبہ خوش نما قسم کے پر فریب الفاظ ہیں، جو فضا میں اِس طرح بھر گئے ہیں کہ کوئی بھی عورت یا مرد اُس سے محفوظ نہیں۔ الفاظ کے اِس تاریک فتنے سے بچنا کس طرح ممکن ہوگا۔ اُس کا راز ایک حدیث سے معلوم ہوتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق ، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: المعرفة جُنّة من الفتن (الدارمی، مقدمة) ۔ یعنی معرفت، فتنے کے مقابلے میں ڈھال ہے۔ اِس کا مطلب یہ ہے کہ خوش نما الفاظ کے سحر سے باہر آنے کا ذریعہ صرف ایک ہے ، اور وہ یہ کہ آدمی کے اندر معرفت موجود ہو ۔ معرفت کے سوا کوئی بھی دوسری چیز نہیں جو آدمی کو اس قِسم کے فتنے سے بچا سکے۔

مہدی دراصل اسی قِسم کا ایک صاحب معرفت انسان ہوگا۔ اس کے اندر خدا کی خصوصی توفیق سے یہ صلاحیت ہوگی کہ وہ لفظی مغالطے کو سمجھ سکے۔ وہ خوش نما الفاظ اور حقیقی استدلال کے فرق کو

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page