مہدی کی پہچان
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۳۸
جانے۔ وہ ایک گم راہ گن بیان کا تجزیہ کر کے اس کی گم راہی کو کھول سکے۔ اس کے اندر تجزیہ کی طاقت (power of analysis) کمال درجے میں موجود ہو، وہ محدّ تبین (precise description) کی صلاحیت کا حامل ہو ۔ اپنی اسی معرفت کی بنا پر وہ خود الفاظ کے فتنے سے بچے گا اور دوسروں کے لیے الفاظ کے فتنے سے بچنے کا ذریعہ بنے گا ۔ مہدی، یار جل مومن کے اسی اہم رول کی بنا پر اُس کی بابت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: وجب علیٰ كُلِّ مؤمن نصرُه أو قال إجابته (سنن أبي داؤد، كتاب المهدي ) یعنی مہدی، یار جل مومن کے ظہور کے وقت ہر مومن پر واجب ہوگا کہ وہ اس کے ساتھ تعاون کا معاملہ کرے، یا آپ نے یہ فرمایا کہ وہ اس کی پکار پر لبیک کہے۔ اس حدیث سے مزید یہ معلوم ہوتا ہے کہ مہدی، یار جل مومن کے ظہور کا معاملہ کوئی پر اسرار معاملہ نہیں۔ اُس کے ظہور کا معاملہ اگر کسی معجزاتی شخصیت کے ظہور کا معاملہ ہو، تو پھر ایسے شخص کی نصرت کی تاکید ایک غیر ضروری بات ہوگی ۔ کیوں کہ ایک ایسا انسان جو معجزاتی شخصیت کی حیثیت رکھتا ہو، اس کو اپنا مطلوب رول ادا کرنے کے لیے خود معجزہ کے سوا کسی اور چیز کی ضرورت نہیں۔ خداوندی مداخلت کا معاملہ مہدی کے بارے میں سنن ابن ماجہ (کتاب الفتن، باب : خروج المهدی ) میں ایک روایت آئی ہے۔ اُس کا ایک حصہ یہ ہے : يُصلحه الله في ليلة (خدا ایک رات میں اُس کی اصلاح کردے گا)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ مہدی کا ظہور اُس زمانے میں ہوگا، جب کہ دنیا میں فتنة دُہماء کا دور آ چکا ہوگا۔ یہ ایک ایسی شدید صورت حال ہوگی جب کہ کوئی شخص نہ اپنی ذاتی کوشش سے ہدایت کی روشنی پا سکے گا، اور نہ کوئی ادارہ ایسا ہوگا جو اس عمومی بگاڑ کے دور میں مہدی جیسی شخصیت کی تشکیل کر سکے۔ ایسا واقعہ براہِ راست خدا کی مداخلت کے ذریعے ہوگا۔ خدا کی خصوصی مداخلت کے بغیر ایسا ہونا ممکن نہیں۔ ایسا اس لیے ہوگا تا کہ خدا کے بندوں کو خدا کا سچا راستہ دکھایا جا سکے۔ مہدی کے بارے میں حدیث میں آیا ہے کہ: يواطئ اسمه اسمی یعنی اُس کا نام میرے نام کے موافق ہوگا۔ یہاں نام سے مراد صفت ہے، جیسا کہ دوسری روایت سے واضح ہوتا ہے۔ دوسری روایت