Al-Risala · May 2010 · page 39

مہدی کی پہچان

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۳۹

کے الفاظ یہ ہیں: يشبهه فى الخلق، ولا يشبهه فى الخلق (أبوداؤد، كتاب المهدی) یعنی مہدی باعتبارِ داخلی صفت، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہ ہوگا، نہ کہ باعتبارِ ظاہری ہیئت۔ مہدی، نہ کہ ہادی بعض لوگوں نے مہدی کو ہادی کے معنی میں لے لیا۔ اِس خود ساختہ تصور کے مطابق، انھوں نے کہا کہ مہدی جدید دور کا ایک انقلابی لیڈر ہوگا، جو عالمی سیاسی نظام قائم کرے گا۔ مہدی کی یہ تعریف سرتا سر بے بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ مہدی جدید دور کا ایک عارف ہوگا۔ وہ خدا کی توفیق سے خود اعلیٰ معرفت حاصل کرے گا، اور دوسروں کو اعلیٰ معرفت کا راستہ دکھائے گا، اور یہ ایک حقیقت ہے کہ معرفتِ الہی کا حصول خدا کے نزدیک سب سے زیادہ اعلیٰ اور سب سے زیادہ مطلوب چیز کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ کام بلاشبہ عالمی سطح پر انجام پائے گا، لیکن مہدی کا کام سیاسی انقلاب کے ہم معنی نہیں ہوگا، بلکہ وہ افراد کے اندر ذہنی سطح پر ربانی انقلاب پیدا کرنے کے ہم معنی ہوگا۔ مہدی کے بارے میں عام تصور یہ ہے کہ جب وہ ظاہر ہوگا تو اس کے اندر ایسے امتیازی اوصاف ہوں گے کہ لوگ فوراً اُس کو پہچان لیں گے اور جوق در جوق اس کے ساتھی بن جائیں گے۔ لیکن حدیث میں مہدی یا رجل مومن کی تصویر اس سے بالکل مختلف ہے۔ حدیث کے مطابق، جب مہدی ظاہر ہوگا تو وقت کے بااثر افراد اس کا ساتھ نہیں دیں گے۔ اِس بنا پر دجال اور اس کے ساتھی، مہدی کی مخالفت پر انتہائی حد تک جری ہو جائیں گے۔ وہ اس کی کردارکشی (character assassination) کریں گے ، یہاں تک کہ وہ اس کو قتل کر دینا چاہیں گے۔ مگر مہدی کو خدا کی خصوصی مدد حاصل ہوگی، اس بنا پر دجال اور اس کے ساتھی ہرگز اپنے تخریبی منصوبے میں کامیاب نہ ہوسکیں گے۔ حدیث کے مطابق، دجال کے ساتھ اس کے حامیوں کی بھیڑ ہوگی، لیکن مہدی، یارجل مومن کے ساتھ اس کے حامیوں کی بھیڑ نہ ہوگی۔

مہدی کی مذکورہ تعریف ایک خود ساختہ تعریف ہے۔ اِس میں مہدی کو بدل کر ہادی کے ہم معنی قرار دے دیا گیا ہے، یعنی ایک ایسا لفظ جو مفعول کی حیثیت رکھتا تھا، اُس کو فاعل کے ہم معنی بنا دیا گیا۔ یہی چیز

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page