Al-Risala · May 2010 · page 45

سائنسی انقلاب کے دو پہلو

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۴۵

اس معاملے کی ایک مثال سورج گرہن (solar eclipse) اور چاند گرہن (lunar eclipse) کا خلائی ظاہر ہ ہے۔ گرہن دو سماوی اجرام کے درمیان کسی تیسرے گرہ کے گزرنے سے پیدا ہونے والے اندھیرے کا نام ہے۔

Eclipse: The obscuring of the reflected light from one celestial body by the passage of another between it. اصحابِ رسول کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے نصفِ اوّل کا زمانہ ہے۔ اُس زمانے میں سورج گرہن اور چاند گرہن کے بارے میں عجیب و غریب قِسم کی کہانیاں مشہور تھیں۔ یہ معاملہ اُس وقت تو ہمات (superstitions) کے پردے میں ڈھکا ہوا تھا۔ اصحابِ رسول نے توہماتی کہانیوں سے اوپر اٹھ کر سورج گرہن اور چاند گرہن کے معاملے کو جانا۔ انھوں نے یہ دریافت کیا کہ سورج گرہن اور چاند گرہن، خداوندِ عالم کی دوشانیاں ہیں۔ وہ خدا کی قدرت کا آسمانی مظاہرہ ہیں۔ اپنے اس ذہن کی بنا پر انھوں نے سورج گرہن اور چاند گرہن کو دیکھ کر خدا کی معرفت حاصل کی، اور نماز کی صورت میں خدا کے آگے جھک کر خدا کی عظمت کا اعتراف کیا۔

موجودہ سائنسی دور میں دوربین مشاہدہ کے ذریعے شمسی نظام (solar system) کے بارے میں نئی معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ یہ معلومات بلاشبہ ازدیادِ ایمان اور اضافۂ معرفت کا ذریعہ ہیں۔ ان نئی معلومات کی روشنی میں جب آج کا ایک مومن، سورج گرہن اور چاند گرہن کے ظاہر ہ کو دیکھتا ہے، تو اُس کو اُس اعلیٰ معرفت کا تجربہ ہوتا ہے جو دل کو ہلا دے، اور جِس کو سوچ کر بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں۔ جدید معلومات کے مطابق، زمین اور سورج اور چاند، تین بالکل مختلف سائز کے متحرک اَجرام ہیں، مگر وسیع خلا میں ان اَجرام کو ایک نا قابلِ قیاس حساب کے ذریعے ایک سیدھ میں لایا جاتا ہے۔ اِسی کے نتیجے میں، انسانی مشاہدہ کی نسبت سے، سورج گرہن یا چاند گرہن واقع ہوتا ہے۔ مسیح کی آمدِ ثانی کا مسئلہ اس بحث سے تعلق رکھنے والا ایک مسئلہ وہ ہے جِس کو مسیح کی آمدِ ثانی کا مسئلہ کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page