سائنسی انقلاب کے دو پہلو
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۴۶
عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ حضرت مسیح آسمان میں زندہ ہیں اور آخری زمانے میں وہ جسمانی طور پر آسمان سے اتر کر زمین پر آئیں گے اور دجّال کو قتل کریں گے۔ یہ تصور اگرچہ لوگوں میں کافی پھیلا ہوا ہے، مگر وہ اپنی موجودہ صورت میں نہ قرآن سے ثابت ہوتا ہے، اور نہ احادیث سے۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں تقریباً یا دو درجن معتبر روایتیں ہیں جن میں مسیح کے ظہور کا بیان پایا جاتا ہے۔ لیکن قابلِ غور بات یہ ہے کہ اُن میں سے کسی روایت میں صراحتاً یہ الفاظ موجود نہیں کہ۔ مسیح جسمانی طور پر آسمان سے اتر کر زمین پر آئیں گے۔
اس سلسلے میں جو بات ہے، وہ صرف یہ ہے کہ روایتوں میں نزول اور بعث کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ مگر صرف اس لفظ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت مسیح آسمان سے اتر کر نیچے زمین پر آئیں گے۔ عربی زبان میں نزول کا لفظ سادہ طور پر آنے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے، نہ کہ آسمان سے اترنے کے معنی میں۔ اسی اعتبار سے مہمان کو نزیل کہا جاتا ہے، یعنی آنے والا۔ اسی طرح بعث کے لفظ میں بھی آسمان سے اترنے کا مفہوم شامل نہیں ہے۔ بعث کا مطلب اٹھنا، یا ظاہر ہونا ہے، نہ کہ جسمانی طور پر آسمان سے اترنا۔ مسیحی رول کی آمد حقیقت یہ ہے کہ مسیح کی آمد سے مراد مسیح کے رول کی آمد ہے، یعنی دورِ آخر میں جب کہ دجّال ظاہر ہوگا، اُس وقت امت محمدی کا کوئی شخص اٹھے گا اور مسیح جیسا رول ادا کرتے ہوئے دجّال کے فتنوں کا مقابلہ کرے گا اور اُس کو شکست دے گا۔ حدیث میں قتلِ دجّال کا ذکر ہے۔ اس سے مراد دجّال کا جسمانی قتل نہیں ہے، بلکہ دجّال کے فتنے کو بذریعہ دلائل قتل کرنا ہے۔
یہ کوئی انوکھی بات نہیں۔ علماء اسلام کی قابلِ لحاظ تعداد اس نقطہ نظر کو ہمیشہ سے مانتی رہی ہے کہ مسیح جسمانی طور پر آسمان سے نازل نہیں ہوں گے۔ اس نقطۂ نظر کی تائید میں مستقل کتابیں بھی لکھی گئی ہیں۔ جو علماء اسلام اس نقطۂ نظر کے حامی ہیں، اُن میں سے بعض کے نام یہ ہیں— امام فخر الدین الرازی (وفات : 1210)، سید جمال الدین افغانی (وفات: 1897)، مفتی محمد عبدہ (وفات: 1905)، سید رشید رضا مصری (وفات: 1935)، شیخ محمود شلتوت (وفات: 1963)، ڈاکٹر محمد اقبال (وفات: 1938)،