سائنسی انقلاب کے دو پہلو
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۴۷
مولانا عبید اللہ سندھی (وفات: 1944)، مولانا ابوالکلام آزاد (وفات: 1958)، شیخ محمد بن احمد ابوزہرہ (وفات: 1974)، شیخ محمد الغزالی (وفات: 1996) وغیرہ۔ (مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: ماہ نامہ الرسالہ، جولائی 2008، مضمون ”قربِ قیامت کا مسئلہ“) علماءِ متقدمین میں علی بن احمد بن حزم اندلسی (وفات: 1063ء) اور شیخ تقی الدین احمد ابن تیمیه (وفات: 1328ء) نے نزولِ مسیح کے مسئلے کو اختلافی مسئلہ قرار دیا ہے۔
اِس طرح یہ ظاہر ہے کہ روایات سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ مسیح کوئی ایسی شخصیت ہیں جو آسمان سے نازل ہوں گے۔ اور جب مسیح آسمان سے اترنے والی کوئی شخصیت نہ ہوں، تو ہمارے لیے صرف یہ انتخاب (option) باقی رہتا ہے کہ مسیح کو سادہ طور پر رول (role) کے معنی میں لیں ، یعنی آخری زمانے میں امتِ محمدی سے کوئی ایک فرد اٹھے گا جو زمانی حالات کے اعتبار سے مسیح کا رول ادا کرے گا۔ مسیحی رول معروف معنوں میں کوئی فضیلت کی بات نہیں اور نہ وہ کوئی پر اسرار چیز ہے۔ مسیحی رول دراصل ایک تاریخی رول ہے جو کسی امت کے دورِ آخر میں مطلوب ہوتا ہے۔ امتِ موسیٰ کے دورِ آخر میں یہ رول مسیح ابن مریم نے انجام دیا تھا۔ امتِ محمد کے دورِ آخر میں یہ رول خود امت کا کوئی مجدد انجام دے گا۔ امتِ محمد کے دورِ آخر کا رول آسمان سے اترنے والی کسی شخصیت کے ذریعہ انجام نہیں پائے گا۔ وہ خود امت کے اندر پیدا ہونے والے ایک شخص کے ذریعہ فطری طور پر انجام دیا جائے گا۔ اصل یہ ہے کہ ہر امت اپنے ابتدائی دور میں اخلاص پر قائم ہوتی ہے۔ مگر بعد کے دور میں امت کے افراد کے اندر زوال آجاتا ہے۔ اب امت کے افراد میں منافقت عام ہو جاتی ہے۔ مسیحی رول حقیقت میں یہی ہے کہ دورِ زوال میں منافقت کو ایکسپوز (expose) کیا جائے اور اخلاص والے دین سے دوبارہ لوگوں کو متعارف کیا جائے۔
منافقت کیا ہے۔ منافقت یہ ہے کہ لوگوں کے اندر دین کی حقیقی روح باقی نہ رہے۔ کچھ ظاہری چیزوں کو دین داری کا معیار سمجھ لیا جائے۔ اسی کو حضرت مسیح نے تمثیل کی زبان میں اِس طرح بیان کیا تھا کہ لوگ اندر سے بھیڑیا ہوں اور انھوں نے اوپر سے بھیڑ کی کھال پہن لی ہو (متی: 7:15)۔