Al-Risala · May 2010 · page 48

سائنسی انقلاب کے دو پہلو

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۴۸

حدیث کی پیشین گوئی کے مطابق، امت محمدی میں منافقت کا یہ دور پوری طرح آچکا ہے۔ اب عام طور پر یہ حال ہے کہ ظاہری وضع قطع کو دین داری سمجھ لیا گیا ہے۔ لوگوں کو قومی فخر کی غذا دین اسلامی کا نام سمجھا جانے لگا ہے۔ لوگوں کی کنڈیشنگ کو توڑبے بغیر ایمان اور اسلام کے شان دار مظاہرے کئے جارہے ہیں اور ایسے لوگ مسلمانوں کے اندر قومی ہیرو بن گئے ہیں۔ کمیونٹی ورک کو دعوتِ ورک کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ سیاسی اکھیڑ پچھاڑ کرنے والے لوگ مجاہدینِ اسلام کا درجہ پارہے ہیں۔ اسلام کے بھیس میں منافقت کا یہ دور آج امت کے اندر پوری طرح آچکا ہے۔ آج مسیحی رول یہی ہے کہ اس منافقت کو ایکسپو زکر کے اصلی اسلام کو لوگوں کے سامنے مبرہن حالت میں پیش کر دیا جائے۔ حضرت مسیح کا رول حضرت مسیح، بنی اسرائیل کے آخری پیغمبر کے طور پر آئے۔ اُس وقت بنی اسرائیل کے درمیان خدا کا دین موجود تھا، لیکن وہ دین منزّل نہ تھا، بلکہ عملاً اس کی حیثیت دینِ مُرَّف کی بن چکی تھی۔ حضرت مسیح نے امت یہود کو دوبارہ دینِ منزّل کا پیغام دیا۔ یہی کام امت محمدی کی نسبت سے بھی مطلوب ہے۔ حدیث کے مطابق، امت محمدی کے دورِ آخر میں، امت کے درمیان تقریباً وہی صورت حال پیدا ہو جائے گی ، جو حضرت مسیح کے زمانے میں امتِ یہود کی تھی۔ اس لیے ضرورت ہوگی کہ امت محمدی کے آخری دور میں دوبارہ مسیحی کردار کو دہرایا جائے۔ اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہ تجدیدِ دین کا ایک معاملہ ہے، نہ کہ کسی پراسرار فضیلت کا معاملہ۔

حدیث کے الفاظ میں، آج اسلام ایک غریب دین (اجنبی دین) بن چکا ہے۔ بعد کو پیدا ہونے والے تصورات نے اصل دین کے اوپر پردہ ڈال دیا ہے۔ آج کے لیے کرنے کا کام یہ ہے کہ دین کو بعد کی ملاوٹوں سے پاک کرکے اس کو اس کی اصل صورت میں پیش کیا جائے، دینِ اجنبی کو دینِ معروف بنایا جائے۔ یہ کام مسلمانوں کی نسبت سے بھی مطلوب ہے، اور غیر مسلموں کی نسبت سے بھی۔ روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ امت محمدی کے آخری دور میں مسیحی رول کا اعادہ اُس وقت ہوگا، جب کہ قیامت بالکل قریب آچکی ہوگی۔ حالات بتاتے ہیں کہ اکیسویں صدی کے آغاز میں قربِ قیامت کی تمام نشانیاں

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page