سائنسی انقلاب کے دو پہلو
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۴۹
ظاہر ہو چکی ہیں۔ دینی اعتبار سے اس کی نشانی یہ ہے کہ انسانوں کے درمیان بگاڑ اس آخری حد تک پہنچ جائے گا، جب کہ انسان یہ جواز (justification) کھودے گا کہ اس کو خدا کی زمین پر مزید باقی رہنے دیا جائے۔ حضرت نوح کے آخری زمانے میں وہ حالات پیدا ہو گئے جس کو انھوں نے اپنی ایک دعا میں اس طرح بیان کیا تھا: إنك إن تذرهم يضلوا عبادك، ولا يلدوا إلا فاجراً كفّارًا (نوح: 27)- جب اس قسم کے انتہائی حالات پیدا ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے ایک عظیم طوفان کے ذریعے قوم نوح کو تباہ کر دیا۔ اس عمومی تباہی سے صرف تھوڑے لوگ بچ سکے، جو ایمان لا کر حضرت نوح کے ساتھی بن چکے تھے۔ اب پھر دنیا میں اتنا زیادہ بگاڑ آ چکا ہے کہ آج کے انسان کے اوپر دوبارہ ’ولا يلدوا إلا فاجراً كفّاراً‘ کے الفاظ صادق آ رہے ہیں۔ تقریباً یقینی معلوم ہوتا ہے کہ جلد ہی طوفان نوح سے بھی زیادہ بڑا طوفان آنے والا ہے، جو روئے زمین سے انسان اور انسانی تہذیب کا خاتمہ کر دے۔ اور تمام انسانوں کو آخری حساب کے لیے میدان حشر میں خداوند ذوالجلال کے سامنے حاضر کر دے۔ انتظار مسیح ”مسیح کی آمد ثانی‘‘ کے بارہ میں عام طور پر لوگ سخت غلط فہمی میں مبتلا ہیں۔ انھوں نے بطور خود مسیح کا ایک پر عجوبہ تصور قائم کر رکھا ہے۔ اپنے اس تصور کے مطابق، وہ ایک پر عجوبہ شخصیت کی آمد کا انتظار کر رہے ہیں۔ حالاں کہ اس معاملے میں نصوص کا مطالعہ بتاتا ہے کہ حضرت مسیح کسی پر اسرار شخصیت کے طور پر ظاہر نہیں ہوں گے۔ اس حقیقت کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس بات کا سخت اندیشہ ہوتا ہے کہ امت مسلمہ میں دوبارہ وہی صورت حال پیش آئے جو اس سے پہلے امت یہود کے ساتھ پیش آئی تھی۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ یہود، آخری رسول کی آمد کا انتظار کر رہے تھے، لیکن جب آخری رسول آیا، تو یہود نے اس کو ماننے سے انکار کر دیا (البقرۃ: 89) کیوں کہ وہ یہود کو ان کے اپنے مفروضہ تصور کے مطابق نظر نہ آیا۔ امت مسلمہ کی موجودہ حالت کو دیکھتے ہوئے دوبارہ یہ اندیشہ ہے کہ لوگ اپنے مفروضات کے مطابق، ایک خود ساختہ مسیح کی آمد کا انتظار کرتے رہیں گے، جو کہ کبھی آنے والا نہیں۔ وہ اسی انتظار میں رہیں گے، یہاں تک کہ اچانک قیامت آ جائے گی، اور لوگوں کے حصے میں