سائنسی انقلاب کے دو پہلو
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۵۰
ابدی حسرت اور محرومی کے سوا کچھ اور نہ آئے گا۔ مسیح، امتِ مسلمہ کے ایک فرد کے مصلحانہ رول کا نام ہے، نہ کہ جسمانی طور پر آسمان سے نازل ہونے والی کسی پر اسرار شخصیت کا نام۔ امتِ مسلمہ کے ایک فرد کا یہ رول عیسیٰ بن مریم کے رول کے مشابہ ہوگا۔ اس لیے اس کو امتِ مسلمہ کا مسیح کہا گیا ہے۔ دورِ آخر کے مجدد کی پہچان اب یہ سوال ہے کہ دورِ آخر کے مجدد کی پہچان کیا ہوگی۔ اُس کی پہچان بلاشبہ یہ نہیں ہوگی کہ وہ کچھ پر عجوبہ صفات کا مالک ہوگا۔ اس کی پہچان بنیادی طور پر دو ہوگی۔ اور یہ دونوں چیزیں واضح طور پر قرآن اور حدیث سے معلوم ہوتی ہیں۔ حدیث میں دورِ آخر کے بارے میں ایک طویل روایت آئی ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: لايبقى من الإسلام إلا اسمه، ولا يبقى من القرآن إلا رسمه، مساجدهم عامرة، وهي خراب من الهدىٰ (رواه البيهقى في شعب الإيمان)۔ یعنی اُس وقت اسلام میں سے کچھ نہیں بچے گا، سوائے اس کے نام کے۔ اور قرآن میں سے کچھ نہیں بچے گا، سوائے اس کے نشان کے۔ اُس وقت ان کی مسجدیں خوب آباد ہوں گی، لیکن وہ ہدایت کے اعتبار سے بالکل ویران ہوں گی۔ اس حدیث کا مطلب کیا ہے، وہ ایک اور روایت سے معلوم ہوتا ہے۔ اس دوسری روایت میں پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے بعد کے زمانے کے بارے میں فرمایا: بدأ الإسلام غريباً، وسيعود كما بدأ (صحیح مسلم، کتاب الإيمان) یعنی اسلام جب شروع ہوا، تو وہ اجنبی تھا، اور دوبارہ وہ اجنبی ہو جائے گا۔
اس قسم کی روایتوں پر غور کرنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ دورِ آخر کے مجدد کی سب سے پہلی علامت یہ ہوگی کہ وہ خدا کی خصوصی توفیق سے، دینِ حق کو دوبارہ اس کی حقیقی صورت میں دریافت کرے گا۔ وہ ظاہری فارم سے گزر کر، اسلام کی اصل اسپرٹ کا فہم حاصل کرے گا۔ وہ قرآن کی مغالطہ آمیز تشریح سے گزر کر قرآن کے اصل پیغام کو سمجھے گا۔ وہ دینِ اجنبی کو دوبارہ اپنے لیے دینِ معروف بنائے گا۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ وہ خدا کے دین کو دوبارہ اُس طرح دریافت کرے گا، جس طرح اصحابِ رسول نے اس کو دریافت کیا تھا۔ زمانے کے اعتبار سے، وہ بعد کا انسان ہوگا، لیکن معرفت کے