معرفت، نہ کہ نزول
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۵۱
اعتبار سے وہ اصحابِ رسول جیسی معرفت کا حامل ہوگا۔
اُس کی دوسری علامت وہ ہوگی جو قرآن میں پیغمبروں کی نسبت سے ان الفاظ میں بتائی گئی ہے: وما أرسلنا من رسول إلا بلسان قومه (ابراهيم: 4) یعنی خدا نے جو رسول بھیجے، وہ ان کی اپنی قوم کی زبان میں بھیجے۔ یہ کوئی سادہ بات نہیں، بلکہ وہ ایک نہایت اہم بات ہے جو رسول کو پہچانے کے معاملے میں ایک یقینی معیار کو بتاتی ہے۔
اس آیت میں’’لسان‘‘سے مراد صرف زبان (language) نہیں ہے، اس میں وہ تمام پہلو شامل ہیں جو ایک کامیاب زبان کا ضروری حصہ سمجھے جاتے ہیں۔ مثلاً وضاحت(clarity)، مؤثر اسلوب، ایسا کلام جو معاصر ذہن کو پوری طرح ایڈریس کرنے والا ہو، وغیرہ۔
اس قسم کا طاقت ور اسلوب کبھی اکتسابی نہیں ہوتا۔ وہ ہمیشہ وہی طور پر کسی ایسے شخص کو عطا ہوتا ہے جس سے خدا اپنے دین کی تبیین کا کام لینا چاہے۔ اس استثنائی صفت کے باوجود جو لوگ اس کو نہ پہچانیں، وہ اُسی قسم کے اندھے پن میں مبتلا ہیں، جس اندھے پن کی بنا پر لوگوں نے پچھلے پیغمبروں کو نہیں پہچانا اور وہ ان کے منکر بنے رہے۔
معرفت، نہ کہ نزول
ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت مسیح کے ظہور کے متعلق فرمایا: وإنه نازل، فإذا رأيتموه فاععرفوه (سنن أبى داؤد، كتاب الملاحم، باب ذكر الدّجّال) یعنی وہ آئیں گے۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو تم اُن کو پہچان لینا۔ اس حدیثِ رسول سے معلوم ہوتا ہے کہ پہچاننا‘‘نزول‘‘کی بنیاد پر نہ ہوگا، بلکہ خود ان کی شخصیت کو دیکھ کر ہوگا۔ اگر پہچان کا تعلق نزول سے ہو، تو آسمان سے اُن کا جسمانی طور پر دو فرشتوں کے ساتھ اترنا اتنا زیادہ عجیب واقعہ ہوگا کہ ہر آدمی بلا اعلان ہی ان کو اپنے آپ پہچان لے۔ گویا کہ اس معاملے میں، حدیث کے مطابق، اصل معاملہ سادہ طور پر معرفتِ مسیح کا ہے، نہ کہ معجزاتی طور پر اُن کے آسمانی نزول کا۔ روایت کے مطابق، مسیح کی ایک پہچان یہ ہوگی کہ اُن کے زمانے میں خدا اسلام کے سوا