Al-Risala · May 2010 · page 52

معرفت، نہ کہ نزول

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۵۲

تمام ملتوں کو ہلاک کردے گا (يُهلك الله فى زمانه الملل كلّها إلّا الإسلام - سنن أبى داؤد، كتاب الملاحم، باب: خروج الدّجال) اس سے مراد بقیہ ملتوں کی جسمانی ہلاکت نہیں ہے، بلکہ ان کی استدلالی ہلاکت ہے۔ ظہورِ مسیح کے زمانے میں فطرت کے جوموافق دلائل، سائنسی تحقیق کے نتیجے میں سامنے آئیں گے، اور مذاہب کے تقابلی مطالعے کے نتیجے میں جو حقیقتیں سامنے آئیں گی، وہ دوسری ملتوں (مذاہب) کی استدلالی بنیاد کو ڈھا دینے کے ہم معنی ہوں گی۔ یہ معاملہ ابتداءً بالقوہ (potentially) پیش آئے گا، یعنی نئے دریافت شدہ حقائق، دوسری ملتوں، یا دوسرے مذاہب کو اپنے آپ ہلاک نہیں کردیں گے، بلکہ اُس وقت ایک شخص درکار ہوگا جو ان دریافت شدہ حقائق کی وضاحت کر کے اس امکان کو واقعہ (actual) بنائے گا۔ حدیث کے مطابق، استثنائی طور پر یہ کام مسیح انجام دیں گے، جب کہ دوسرے لوگ ایسا کرنے میں اپنے آپ کو پوری طرح عاجز پا رہے ہوں گے۔ یہ واقعہ مسیح کی شخصیت کی ایک پہچان ہوگا۔

اِسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ حضرت مسیح جب آئیں گے، تو وہ ایک سفید مینار (المنارة البيضاء) کے پاس اتریں گے (صحیح مسلم، كتاب الفتن )۔ اس حدیثِ رسول میں تمثیل کی زبان میں غالباً اُس دور کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کو عہدِ پرواز (age of aviation) کہا جاتا ہے۔ ہوائی جہاز جب کسی ائیرپورٹ پر اترتا ہے تو وہاں پہلا نمایاں نشان اس کا کنٹرول ٹاور ہوتا ہے، جس کو ائیرپورٹ کا مینار کہہ سکتے ہیں۔ اِس مینار کے پاس اتر کر آدمی شہر کے اندر داخل ہوتا ہے۔ مذکورہ حدیث میں غالباً تمثیل کی زبان میں اِسی ظاہرِے کو بتایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے حدیث کا مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ حضرت مسیح عہدِ پرواز (age of aviation) میں لوگوں کے درمیان ظاہر ہوں گے۔ امامت بذریعہ کتاب و سنت حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’اُس وقت تمھارا حال کیا ہوگا جب کہ تمھارے درمیان ابن مریم ظاہر ہوں گے، پھر وہ تمھاری امامت کریں گے تمھیں میں سے۔ ابن ابی ذئب نے کہا کہ ’’إمامكم منكم‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمھاری امامت

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page