قتل دجال
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۵۳
مْ علیکم مبارک و مدنی وسلم صَلَّى عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ) جامع مسلم ، کتاب باب بیان نزول عيسى بن مريم حاکماً ۔
دور آخر میں ظاہر ہونے والے مجدد کی سب سے بڑی پہچان یہی ہے ۔ وہ کتاب وسنت کو اس کی اصل تعلیمات کے مطابق زندہ کرے گا۔ گویا کہ اُس کا رول آخری دور میں کامل معنوں میں تجدیدِ دین کا رول ہوگا ۔ یہ فتنۂ دہیماء کے بعد اظہارِ دین کی اعلیٰ صورت ہوگی ۔ مسیح کی پہچان یہی ہوگی کہ وہ دین اجنبی کو دوبارہ دینِ معروف بنائیں گے ۔ وہ کتاب وسنت کی تعلیمات کو اس کی حقیقی صورت میں زندہ کریں گے ۔ اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسیح کا ظہور کس وقت ہوگا ۔ یہ واقعہ اُس وقت ہوگا جب کہ حق کا اصلی معیار گم ہو چکا ہوگا۔ اُس وقت مسیح کے ذریعے اس کا حقیقی معیار سامنے آئے گا، یہ معیار ہے خالص کتاب وسنت کا معیار۔
قتل دجال
قتل دجال کے بارے میں ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ ابن ماجہ کے الفاظ یہ ہیں : فإذا نظر إليه الدّجّال ذاب كما يذوب الملح في الماء، وينطلق هارباً، ويقول عيسى إن لي فيك ضربة لن تسبقني بها (كتاب الفتن، باب : ذكر الدّجّال ) یعنی دجّال جب مسیح کو دیکھے گا، تو وہ اس طرح گھلنے لگے گا جیسے کہ نمک پانی میں گھلتا ہے، اور وہ وہاں سے بھاگنا شروع کر دے گا۔ مسیح کہیں گے کہ میرے پاس تیرے لیے ایک ایسی ضرب ہے جس سے بچنا ہرگز تیرے لیے ممکن نہیں۔
اس روایت میں جو بات کہی گئی ہے، وہ تمثیل کی زبان میں ہے۔ اس پر غور کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ دجال کے مقابلے میں جو واقعہ پیش آئے گا، وہ یہ ہے کہ مسیح اُس کے دجل کا علمی تجزیہ کر کے اُس کو ایکسپوز (expose) کر دیں گے۔ اس طرح وہ دلائل کے ذریعے دجّال کو بے نقاب کر دیں گے ، یہاں تک کہ جو لوگ دجال کی پر فریب باتوں سے متاثر ہورہے تھے، وہ جان