Al-Risala · May 2010 · page 54

قتل دجال

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۵۴

لیں گے کہ دجال کی باتیں خوش نما الفاظ کے جھوٹے فریب کے سوا اور کچھ نہیں۔ گلوبل وارمنگ، یا موسمیاتی تبدیلی بطورِ آغازِ قیامت عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ اسلام اور سائنس دونوں ایک دوسرے سے الگ ہیں۔ اسلام کا موضوع الگ ہے اور سائنس کا موضوع الگ۔ یہ بات کسی حد تک درست ہو سکتی ہے، لیکن ایک شعبہ ایسا ہے جہاں اسلام اور سائنس دونوں ایک دوسرے سے بالکل ہم آہنگ ہوجاتے ہیں، یعنی جو بات سائنس اپنی تحقیق کے ذریعے بتا رہی ہے، وہی بات اسلام میں وحی کے ذریعے بتائی گئی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ اسلام میں یہ بات ہزار سال سے بھی زیادہ پہلے ساتویں صدی عیسوی میں بتادی گئی تھی، جب کہ سائنس نے اس بات کو بھی حال کے برسوں میں دریافت کیا ہے، خاص طور پر اکیسویں صدی عیسوی کے آغاز کے بعد۔ یہ شعبہ، قیامت یا تاریخِ انسانی کے خاتمہ کے بارے میں ہے۔ عجیب بات ہے کہ اس سلسلے میں جو باتیں قرآن اور حدیث میں بطور پیشگی خبر کے طور پر بتائی گئی تھیں، وہ اب سائنسی مشاہدات کے ذریعے بطورِ واقعہ انسان کے علم میں آ رہی ہیں۔ یہاں اس سلسلے میں چند مثالیں درج کی جاتی ہیں: کرۂ ارض میں تبدیلی قرآن اور حدیث میں کثرت سے بتایا گیا ہے کہ قیامت سے پہلے کچھ علامتی واقعات ظاہر ہوں گے، جو یہ بتائیں گے کہ قیامت اب قریب آگئی ہے۔ مثال کے طور پر اس سلسلے میں قرآن کی ایک آیت یہ ہے: يوم تُبَدَّل الأرض غير الأرض والسموات، وبرزوا لله الواحد القهار (ابراهيم: 48) یعنی جس دن یہ زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی اور آسمان بھی۔ اور سب الله، واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔

اس آیت میں کرۂ ارض کے اندر جس تبدیلی کا ذکر ہے، وہ غالباً اچانک تبدیلی نہیں ہے، بلکہ وہ بتدریج ہونے والی تبدیلی ہے۔ موجودہ زمانے میں یہ واقعہ عملاً پیش آرہا ہے۔ یہ عجیب بات ہے کہ موجودہ زمانے میں سائنس کی مختلف شاخوں میں غیر معمولی ترقی ہوئی ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہو گیا ہے کہ انسان ان ہونے والی تبدیلیوں کو بروقت جان سکے، جب کہ سائنسی ترقی سے پہلے انسان کے

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page