دابہ کا ظہور
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۵۵
لیے ان تبدیلیوں کو جاننا ممکن نہ تھا۔ یعنی خدا نے ایک طرف قیامت کی پیشگی خبر کے طور پر زمین میں چشم کشا تبدیلیاں پیدا کیں، اور عین اُسی وقت خدا نے کو وہ جدید سائنسی طریقے عطا کردیے جن کے ذریعہ وہ ان تبدیلیوں کو براہِ راست طور پر جان سکے۔
اکیسویں صدی کے آتے ہی دنیا بھر کے سائنس دانوں نے اپنے مطالعے کے مطابق، متفقہ طور پر یہ اعلان کرنا شروع کیا کہ زمین میں گلوبل وارمنگ اور موسمیاتی تبدیلی (climatic change) کے نتیجے میں نہایت تیزی سے تبدیلیاں ہورہی ہیں۔ جدید سائنسی مشاہدات کے مطابق، ان تبدیلیوں کے نتیجے میں یہ ہونے والا ہے کہ تقریباً 2050 سے پہلے ہی ہماری زمین نا قابل رہائش (inhabitable) ہوجائے۔ پچھلے دس برسوں کے اندر اس سلسلے میں سائنس دانوں کی طرف سے بہت سی رپورٹس شائع ہوچکی ہیں۔ حال میں امریکہ کے سائنس میگزین میں اس سلسلے میں ایک رپورٹ چھپی ہے۔ یہ ناسا (NASA) کے ایک ٹاپ سائنٹسٹ (James Hansen) کی طرف سے ہے۔ اس رپورٹ کا خلاصہ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (9 اپریل 2008) میں اس عنوان کے تحت چھپا ہے—زمین خطرے میں (Earth in Crisis)۔ اس رپورٹ کے مطابق، زمین پر بحران کی حالت اتنی زیادہ بڑھ گئی ہے کہ بروقت ہی وہ خطرے کی سطح تک پہنچ چکی ہے:
“We have already reached dangerous level of carbon dioxide in the atmosphere,” James Hansen, 67, director of Nasa’s Goddard Institute for Space Studies in New York, said. (p. 35)
زمین پر لائف سپورٹ سسٹم کے بگڑنے کے معاملے میں سائنس داں جو خبریں دے رہے ہیں، وہ نظریاتی تخمینہ پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ وہ خالص مشاہدات کے ذریعے حاصل کی ہوئی معلومات ہیں۔ موجودہ زمانے میں جو جدید ترین سائنسی طریقے دریافت ہوئے ہیں، اُن کے ذریعے مسلسل مشاہداتی مطالعہ کیا گیا ہے اور پھر یہ رپورٹس میڈیا میں بھیجی گئیں۔ یہ معلومات تمام کی تمام ایسی ہیں جن کو کوئی بھی شخص سائنسی ذرائع کو استعمال کر کے جان سکتا ہے۔
دابہ کا ظہور
قرآن کی سورہ نمبر 27 میں قیامت کے قریب پیش آنے والی ایک نشانی کا ذکر ہے جس کو دابۃ