Al-Risala · May 2010 · page 56

دابہ کا ظہور

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۵۶

کہا گیا ہے: ولما وقع القول علیہم أخرجنا لہم دابّةً من الأرض تکلّمہم أن الناس کانوا بایاتنا لایوقنون (النمل: 82) یعنی جب اُن پر قول پورا ہو جائے گا تو ہم اُن کے لیے زمین سے ایک دابہ نکالیں گے۔ وہ اُن سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری نشانیوں پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ دابہ کے لفظی معنی ہیں— رینگنے والا (creeper)۔ یہ لفظ قرآن میں حیوان اور انسان دونوں کے لیے آیا ہے (فاطر: 45) آیتِ دابہ میں یہ لفظ زندہ مخلوق (creature) کے معنی میں استعمال ہوا ہے۔ اس زندہ مخلوق سے مراد غالباً ایک انسان ہے، نہ کہ کوئی جانور۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت سے پہلے اللہ تعالیٰ ایک انسان کو اٹھائے گا، جو خدا کی اُن نشانیوں سے لوگوں کو باخبر کرے گا جو اگرچہ موجود تھیں، لیکن لوگ اُن کو خدا کے حوالے سے سمجھنے سے قاصر ہورہے تھے۔

دابہ کے سلسلے میں مختلف روایتیں آئی ہیں۔ ان روایتوں سے بظاہر یہ تصور ہوتا ہے کہ دابہ ایک انوکھی مخلوق ہوگا۔ ان روایتوں کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اُن کو تمثیلی اسلوب قرار دے کر سمجھا جائے۔ چناں چہ مفسرین کی ایک جماعت نے ان روایتوں کو تمثیل پر محمول کرتے ہوئے یہ لکھا ہے کہ دابہ سے مراد انسان ہے، نہ کہ کوئی عجیب الخلقت جانور۔ اس کے مطابق، دابہ عام انسانوں جیسا ایک انسان ہوگا اور وہ خدا کی خصوصی توفیق کے ذریعے خدا کی نشانیوں کے اظہار کا ذریعہ بنے گا۔ مفسر القرطبی (وفات: 671ھ) نے اس رائے کو ان الفاظ میں نقل کیا ہے: إنّ الأقــــرب أن تكون هذه الدابة إنساناً متكلماً، يناظر أهل البدع والكفر ويجادلهم لينقطعوا، فيهلك من هلك عن بينة، ويحيا من حيّ عن بينة (تفسير القرطبي، جلد 13، صفحه 236) یعنی بعض متاخر مفسرین نے کہا ہے کہ قریب تر بات یہ ہے کہ یہ دابہ ایک بولنے والا انسان ہو۔ وہ اہل بدعت اور اہل کفر سے مباحثہ کرے گا، تاکہ وہ باز آ جائیں۔ چناں چہ جس کو ہلاک ہونا ہے، وہ دلیل کے ساتھ ہلاک ہو۔ اور جس کو زندہ رہنا ہے، وہ دلیل کے ساتھ زندہ رہے۔

قرآن کی اس آیت میں جب دابہ سے مراد دوڑ یا آخر میں ظاہر ہونے والا انسان ہے، پھر کیوں ایسا ہوا کہ یہاں انسان کے بجائے دابہ کا لفظ استعمال کیا گیا۔ اس کا سبب قانونِ التباس ہے، جس کا

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page