Al-Risala · May 2010 · page 57

حدیث میں آئی ہوئی پیشین گوئیاں

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۵۷

بیان قرآن کی سورہ الانعام کی آیت نمبر 9 میں کیا گیا ہے۔ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اگر چا اپنی وحی کو فرشتہ کے ذریعہ بھیجتا ہے، لیکن دوسروں کے سامنے اس وحی کا اعلان ایک آدمی کے ذریعہ کرایا جاتا ہے۔ ایسا اس لیے کیا جاتا ہے، تاکہ سنت الہی کے مطابق، شبہہ کا عنصر (element of doubt) باقی رہے۔ وحی لانے والا فرشتہ اگر خود ہی ظاہر ہو کر لوگوں کو آیتیں سناتا تو شبہہ کا عنصر ختم ہو جاتا۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے ایک بشر کو اپنی وحی کے اعلان کا ذریعہ بنایا۔ غالباً یہی وہ حکمت ہے جس کی بنا پر قرآن میں دابہ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے، تاکہ شبہہ کا عنصر باقی رہے۔ اگر یہاں انسان کا لفظ استعمال کیا جاتا تو قانون التباس کی حکمت باقی نہ رہتی۔ ”دابہ“ کا رول جو قرآن میں بتایا گیا ہے، وہ یہ ہے کہ دابہ ظاہر ہو کر خدا کی مخفی نشانیوں کو آشکارا کرے گا اور دلیل کی زبان میں لوگوں سے کہے گا کہ جب یہ کھلی ہوئی نشانیاں موجود ہیں تو کس چیز نے تم کو روکا ہے کہ تم ان نشانیوں پر یقین نہ کرو۔

قرآن کی مذکورہ آیت میں جن نشانیوں (آیات) کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، اُن سے مراد غالباً وہ نشانیاں ہیں جو آخری زمانے میں ظاہر ہو کر دینِ خداوندی کی حقانیت کو آخری حد تک مبرہن کر دیں گی۔ اس طرح گویا دابہ یا دورِ آخر میں ظاہر ہونے والا داعی، اللہ کی طرف سے لوگوں کے اوپر آخری اتمام حجت ہوگا۔ اس اتمامِ حجت کے بعد دوسرا واقعہ صرف یہ ہوگا کہ فرشتہ اسرافیل اپنا صور پھونک دے اور قیامت برپا ہو جائے۔

حدیث میں آئی ہوئی پیشین گوئیاں

1۔ حدیث میں بتایا گیا ہے کہ آخری زمانے میں ایک سنگین فتنه ظاہر ہوگا، یعنی فتنہ دہیماء (سنن أبی داؤد، کتاب الملاحم)۔ اس سے مراد غالباً ذہنی کہر (intellectual fog) جیسی صورتِ حال ہے۔ یہ صورت حال پرنٹنگ پریس کی ایجاد کے بعد شروع ہوئی، اور انٹرنیٹ کے دور میں آکر وہ اپنی آخری حد تک پہنچ گئی۔ اس زمانے میں پرنٹنگ میٹریل اور الیکٹرانک میٹریل کے ذریعے اتنی زیادہ باتیں لوگوں کے درمیان پھیلائی گئی ہیں کہ اب ہر انسان معلومات کے جنگل میں جی رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page