حدیث میں آئی ہوئی پیشین گوئیاں
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۵۸
اس صورتِ حال نے ایک ذہنی کُہر کی حالت پیدا کر دی ہے۔ ہر آدمی کا دماغ معلومات کا جنگل بنا ہوا ہے۔ ایسی حالت میں حق اور باطل کے درمیان فرق کرنا اور غلط کو الگ کر کے صحیح کو دیکھنا، اتنا زیادہ مشکل ہو چکا ہے کہ وہ خدا کی خصوصی مدد کے بغیر ممکن ہی نہیں۔
2۔ ایک روایت کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت اُس وقت تک قائم نہیں ہوگی، یہاں تک کہ ہرج بہت زیادہ نہ بڑھ جائے (لا تقوم الساعۃ حتّی یکثر الهرج )۔ لوگوں نے کہا کہ ہرج کیا ہے، اے خدا کے رسول۔ آپ نے فرمایا: القتل، القتل (صحیح مسلم، کتاب الفتن وأشراط الساعۃ)۔
پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ ساتویں صدی عیسوی کے رُبع اوّل کا زمانہ ہے۔ اُس زمانے میں جدید ہتھیار نہیں بنے تھے۔ اُس وقت یہ نا قابل تصور تھا کہ قتل اور خوں ریزی ہر طرف عام ہو جائے۔ یہ صرف موجودہ زمانے میں ممکن ہوا ہے، جب کہ عمومی تباہی کے ہتھیار (weapons of mass destruction) بنائے گئے اور وسیع پیمانے کا قتل و خون ممکن ہو گیا۔ چناں چہ ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ زمانے میں ہر طرف اور ہر روز کثرت سے قتل اور خوں ریزی کے واقعات ہو رہے ہیں۔ یہ صورتِ حال اس بات کی علامت ہے کہ اب قیامت بہت قریب آچکی ہے۔ اس پیشین گوئی کی صداقت کے لیے یہ ثبوت کافی ہے کہ یہ پیشین گوئی بہت پہلے اُس وقت کی گئی، جب کہ موجودہ قسم کا قتل اور تشدد بالکل نا قابل قیاس تھا۔
3۔ ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یوشک الفرات أن يحسر عن كنز من ذهب (صحیح مسلم، كتاب الفتن) یعنی وہ زمانہ آنے والا ہے، جب کہ دریائے فرات میں سونے کا ایک خزانہ نکلے۔
اس حدیث میں جو پیشین گوئی کی گئی ہے، اُس سے مراد واضح طور پر پٹرول ہے، جس کو موجودہ زمانے میں سیال سونا (liquid gold) کہا جاتا ہے اور جو بہت بڑی مقدار میں شرقِ اوسط (Middle East) کے عرب علاقے میں ظاہر ہوا ہے۔ یہ واقعہ بھی پیغمبر اسلام کے زمانے میں