حدیث میں آئی ہوئی پیشین گوئیاں
الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۵۹
ناقابل تصور تھا۔ موجودہ زمانے میں بلاشبہ آپ کی یہ پیشین گوئی پوری ہو چکی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی ایک علامت ہے کہ قیامت اب زیادہ دور نہیں۔
4- ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے قرب قیامت کی دس نشانیوں کا ذکر فرمایا۔ اُن میں سے ایک نشانی دُخان کا ظاہر ہونا ہے۔ دُخان کے لفظی معنی دھواں (smoke) کے ہیں۔ اس روایت میں یہ پیشین گوئی کی گئی تھی کہ ایک وقت ایسا آئے گا، جب کہ زمین کی پوری فضا دھوئیں سے بھر جائے گی۔
موجودہ زمانے میں یہ پیشین گوئی واقعہ بن چکی ہے۔ اس سے مراد واضح طور پر وہی چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں فضائی کثافت (air pollution) کہا جاتا ہے۔ یہ کثافت، جدید صنعتی دور کا ایک ظاہر ہ ہے۔ جدید صنعتی دور نے تاریخ میں پہلی بار وہ چیز پیدا کی ہے جس کو کاربن ایمیشن (carbon emission) کہا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پوری فضا کار بن ڈائی آکسائڈ سے بھر گئی ہے، جو انسان جیسی مخلوق کے لیے انتہائی حد تک مہلک ہے۔ فضائی کثافت کا یہ معاملہ پیغمبرِ اسلام کے زمانے میں نا قابل تصور تھا۔ ایسی حالت میں چودہ سو سال بعد اس پیشین گوئی کا واقعہ بننا، قرب قیامت کی ایک واضح نشانی کی حیثیت رکھتا ہے۔
5- ایک روایت کے مطابق، پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إنکم سترون بعد قلیل أمراً عظيماً، يُحرّق البيت، ويكون ويكون (صحیح مسلم، کتاب الفتن )۔ یعنی آئندہ تم ایک امرِ عظیم دیکھو گے، وہ یہ کہ ایک گھر جلا دیا جائے گا۔ ایسا ہوگا اور ضرور ہوگا۔ حدیث کے الفاظ پر غور کیجیے تو یہ کسی عام گھر کو جلانے کی بات نہیں ہے، بلکہ وہ ایک بہت بڑے گھر کو جلانے کی بات ہے، جیسا’ گھر‘ قدیم زمانے میں موجود نہ تھا۔ اس پیشین گوئی سے غالباً وہ واقعہ مراد ہے جو 11 ستمبر 2001 کو نیو یارک (امریکا) میں پیش آیا۔ یہاں مشہور ورلڈ ٹریڈ سنٹر (World Trade Centre) واقع تھا۔ یہ سنٹر 72-1970 میں تعمیر کیا گیا تھا۔ اس کی ایک سودس منزلیں تھیں۔ یہ گویا کہ ایک عمارتپی پہاڑ تھا۔ روایتی طریقوں سے اس کو توڑنا، یا جلانا ناممکن تھا۔ مذکورہ