Al-Risala · May 2010 · page 60

حدیث میں آئی ہوئی پیشین گوئیاں

الرسالہ، مئی ۲۰۱۰، صفحہ ۶۰

تاریخ کو کچھ لوگوں نے دو ہوائی جہازوں کو ہائی جیک کیا اور اس کو فضا میں تیز اڑاتے ہوئے لے جا کر ورلڈ ٹریڈ سنٹر سے ٹکرا دیا۔ اس کے بعد ایک عظیم دھماکہ کے ساتھ پوری بلڈنگ جل کر کھنڈر ہو گئی۔ ایسے کسی واقعے کے ظہور میں آنے کے لیے بہت سے اسباب درکار تھے۔ یہ اسباب تاریخ میں پہلی بار بیسویں صدی عیسوی میں انسان کو حاصل ہوئے ۔ ایسی حالت میں اس انوکھی پیشین گوئی کا حرف بہ حرف پورا ہونا ، اِس بات کی یقینی علامت ہے کہ اب قیامت کا وقت قریب آچکا ہے، اس کے آنے میں اب زیادہ دیر نہیں۔

6- ایک روایت کے مطابق، پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تقوم السّاعة حتّی لا يُقال في الأرض : الله، الله (صحيح مسلم، كتاب الإيمان؛ الترمذی، كتاب الفتن ) یعنی قیامت صرف اُس وقت قائم ہوگی جب کہ زمین پر کوئی اللہ، اللہ کہنے والا باقی نہ رہے۔ اس حدیث میں قول سے مراد قول لسان نہیں ہے، بلکہ قول معرفت ہے، جیسا کہ قرآن (المائدۃ: 83) سے ثابت ہوتا ہے۔ قول معرفت کا معیار قرآن میں بتا دیا گیا ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ قول معرفت ایک ایسے انسان کی زبان سے نکلتا ہے، جو اللہ کے ساتھ حب شدید (البقرہ: 165) اور خوف شدید (التوبۃ: 18) کا تعلق رکھتا ہو۔ جس کا حال یہ ہو کہ جب اس کے سامنے خدا کا ذکر کیا جائے، تو اس کا سینہ خدا کی عظمت کے احساس سے دہل اٹھے (الأنفال : 2) ۔ جب زمین پر اس معنی میں خدا کی عظمت کا اعتراف کرنے والے لوگ باقی نہ رہیں، تو سمجھ لینا چاہیے کہ قیامت کا وقت قریب آگیا ہے۔ انسان کا وجود اور یہاں کی ہر چیز جو انسان کو ملی ہوئی ہے، وہ سب خدا کا انعام ہے۔ اللہ کا چرچا کرنے والوں کا زمین پر نہ ہونا کوئی سادہ بات نہیں۔ ایسی صورت حال کا مطلب یہ ہے کہ لوگ خدا کے انعام کو تو خوب خوب لے رہے ہیں ، لیکن وہ مُنعم کا اعتراف نہیں کرتے۔ جب زمین پر ایسی صورت حال پیدا ہو جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ انسان نے آخری طور پر اس بات کا جواز کھو دیا ہے کہ اْس خدا کی زمین پر مزید آباد رہنے کا موقع دیا جائے۔

موجودہ زمانے میں یہ پیشین گوئی واقعہ بن چکی ہے۔ موجودہ زمانے میں ایسے لوگ تو کثرت

‹ Previous page Next page › Contents of May 2010 All issues

Printed page