Al-Risala · January 2010 · page 27

We are already in Paradise

الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۷

ہمیشہ کے لیے ختم ہو گیا۔ بدقسمتی سے موجودہ زمانے کے مسلم علما نے مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے نزاعی معاملات میں صرف منفی رول ادا کیا، اس طرح کے کسی بھی معاملے میں وہ مثبت رول ادا نہ کر سکے۔ موجودہ زمانے کا اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے علما، عرب اور غیر عرب دونوں، صرف روایتی مسائل سے واقف تھے، وہ جدید دور کے مسائل سے بے خبر تھے۔ اس بنا پر یہ ہوا کہ جب بھی کوئی نیا مسئلہ پیش آیا تو انھوں نے فوراً رد عمل کا اظہار کیا۔ حالاں کہ صحیح یہ تھا کہ نئے مسائل پیش آنے کے بعد وہ ری ایڈجسٹ مینٹ (re-adjustment) کا طریقہ اختیار کریں۔ مثلاً انھوں نے موجودہ زمانے میں سیکولر ازم کو لا دینیت کہہ کر رد کر دیا، اور جمہوریت کو غیر اسلامی بتا کر وہ اس کے خلاف ہو گئے۔ حالاں کہ ان دونوں کے معاملے میں علما کو ری ایڈجسٹ مینٹ کا طریقہ اختیار کرنا چاہیے تھا، نہ یہ کہ وہ ان جدید نظریات کو غیر اسلامی بتا کر اُن کے مخالف بن جائیں۔

مغربی دنیا کا سفر کرتے ہوئے ایک احساس یہ ہوتا ہے کہ اہل مغرب ہی وہ لوگ ہیں جن کو قرآن میں یا جوج اور ماجوج (الأنبیاء: 96) کہا گیا ہے۔ مغربی قوموں نے جس طرح فطرت کے چھپے ہوئے رازوں کو کھولا اور جدید تہذیب بنائی، وہ تاریخ کا ایک انوکھا واقعہ ہے۔ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل مغرب کو ایک اہم کام کا ذریعہ بنایا، وہ ہے— موجودہ دنیا میں جنت کا تعارف جس کا ذکر قرآن میں ان الفاظ میں کیا گیا ہے: ويدخلهم الجنة عرفها لهم (محمد: 6)۔ پر رونق مغربی تہذیب کے ظہور سے پہلے جنت زیادہ تر ایک اعتقادی چیز تھی۔ اب وہ ایک متعارف چیز بن چکی ہے۔ یہ کام بلاشبہ اللہ تعالیٰ نے اہل مغرب سے لیا ہے۔ مثال کے طور پر قدیم زمانے میں کہا جاتا تھا کہ: السفر كالسقر (سفر جہنم کے مانند ہے) جب کہ آج کا مسافر، حدیث کے الفاظ میں، كالملوك على الأسره (تخت پر بیٹھے ہوئے بادشاہوں کے مانند) ہوتا ہے۔ جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے کہ جنتیں دو ہیں (الرحمن: 46)۔ قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بنیادی طور پر جنت کی دو کیٹیگری (category) ہے۔ ایک، وہ جس کو قرآن میں خدا کا پڑوس (التحریم: 11) کہا گیا ہے۔ جنت کے اس درجے کو ’’ عند اللہ کیٹیگری‘‘ کہہ

‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues

Printed page