Al-Risala · June 2010 · page 15

اصحابِ رسول

الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۱۵

بائبل کے اس حوالے کے مطابق ، اصحابِ رسول قدسی کردار (saintly character) کے حامل تھے۔ اصحابِ رسول کی یہ قدسی صفات مذکورہ قرآنی آیت کے مطابق ، حسبِ ذیل ہیں: والذین معه ان صفات میں پہلی صفت وہ ہے جس کی طرف ”معه“ کے لفظ میں اشارہ کیا گیا ہے، یعنی پیغمبرِ اسلام ﷺ کا ساتھ دینے والے۔ یہ ساتھ انھوں نے کب دیا تھا۔ انھوں نے پیغمبرِ اسلام کا یہ ساتھ اُس وقت دیا تھا، جب کہ آپ کی ذات کے ساتھ ابھی تاریخی عظمت جمع نہیں ہوئی تھی۔ انھوں نے پیغمبرِ اسلام کو خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر پہچانا، انھوں نے بظاہر ایک معمولی شخصیت کو غیر معمولی شخصیت کے روپ میں دریافت کیا، انھوں نے تاریخی اعتراف (historical recognition) کے درجے تک پہنچنے سے پہلے آپ کی حیثیت کا اعتراف کیا، انھوں نے دورِ عظمت سے پہلے پیغمبر کو اس وقت پہچانا، جب کہ اُس کی ذات ہر قسم کی ظاہری عظمت سے پوری طرح خالی تھی، انھوں نے محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب کو خدا کے نمائندہ کی حیثیت سے دریافت کر کے اُس کے آگے اپنے آپ کو پوری طرح سرنڈر کر دیا، اصحابِ رسول نے ساعتِ عُسرت (التوبة: 117) میں پیغمبرِ اسلام کا ساتھ دیا۔ یہ ساتھ دینا اُسی وقت ممکن تھا، جب کہ اصحابِ رسول مذکورہ امتیازی صفت کے حامل ہوں۔ أشدّاء علی الكفار اصحابِ رسول کی دوسری صفت کو قرآن میں ”أشدّاء علی الكفار“ کے لفظ میں بیان کیا گیا ہے۔ اہل کفر پر شدید ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اہل باطل کے مقابلے میں غیر اثر پذیر (unyielding) کردار کے حامل تھے، مروّجہ افکار، ان کو متزلزل نہیں کر سکتے تھے، وقت کی غالب تہذیب اُن کو مرعوب کرنے والی نہ تھی، مفادات کا نظام ان کو اپنی راہ سے ہٹا نہیں سکتا تھا۔ اصحابِ رسول کی دریافتِ حقیقت اتنی زیادہ گہری تھی کہ وہی اُن کی پوری شخصیت کا واحد غالب عنصر بن گئی۔ رحماء بينهم اصحابِ رسول کی تیسری صفت کو قرآن میں ”رحماء بینهم“ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے، یعنی

‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues

Printed page