We are already in Paradise
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۸
سکتے ہیں۔ اہلِ جنت کی دوسری قِسم وہ ہے جو خدا کے پڑوس میں تو جگہ نہیں پائیں گے، لیکن وہ جہنم کے عذاب سے محفوظ رہیں گے (الأنبياء: 101)۔ جنت کے اس درجے کو قرآن کے الفاظ میں’’مبعد عن النار کیٹیگری‘‘ کہا جا سکتا ہے۔
پولینڈ کی یہ کانفرنس ایک انٹرنیشنل کانفرنس تھی۔ اس کانفرنس میں کئی عرب علماء آئے ہوئے تھے۔ ایک عرب عالم نے اس کانفرنس کے بارے میں کچھ شکایتی بات کہی۔ میں نے کہا کہ آپ اس طرح سوچیئے کہ کیا آپ کسی عرب ملک میں اس طرح کی منظم کانفرنس اتنے بڑے پیمانے پر کر سکتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نہیں۔ میں نے کہا کہ پھر آپ اس پہلو پر غور کیجئے اور اس سے سبق لیجئے۔ یہ ایک انٹرنیشنل کانفرنس تھی، لیکن ہر پہلو سے وہ نہایت منظم تھی۔ ایسا منظم اجتماع کسی بھی مسلم ملک میں نہ میں نے دیکھا اور نہ میں نے سنا۔
یہاں میں نے دیکھا کہ کمیونٹی آف سینٹ ایجی ڈیو کے کئی عورت اور مرد روانی کے ساتھ عربی زبان بول رہے تھے۔ ہمارے ایک ساتھی نے ان سے پوچھا کہ آپ نے عربی زبان کیسے سیکھی۔ انھوں نے کہا کہ ہمارا سابقہ بار بار عربوں کے ساتھ پیش آتا ہے، اس لیے ہم نے باقاعدہ کوشش کر کے عربی زبان سیکھی، تاکہ ہم براہ راست عربوں سے تعلق قائم کر سکیں۔
قرآن اور حدیث دونوں میں بتایا گیا ہے کہ مسیحی لوگوں میں خصوصی طور پر رافت اور رحمت کی صفت پائی جاتی ہے۔ خود میں نے بار بار اس کا تجربہ کیا ہے۔ قرآن میں اُن کے متعلق، رافت اور رحمت (الحديد: 27) کا لفظ آیا ہے۔ اور حدیث میں اس معاملے کی مزید تفصیل بیان کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: إنّهم لأحلم الناس عند فتنة، وأجبر الناس عند مصيبة، وخير الناس لمساكينهم وضعفائهم (صحيح مسلم، كتاب الفتن وأشراط الساعة)
میں سمجھتا ہوں کہ اس کا سبب غالباً حضرت مسیح کی ایک استثنائی تعلیم ہے۔ حضرت مسیح نے اپنے ایک بیان میں حواریین سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اپنے دشمن سے محبت کرو: Love your enemies (Luke 6: 35)
میرے علم کے مطابق، مذکورہ الفاظ میں’’دشمن سے محبت‘‘ کی تعلیم استثنائی طور پر صرف مسیحیت
‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues