دو تاریخی گروہ
الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۲۰
دو تاریخی گروہ
دعوت حق کی تاریخ میں دو گروہ کا خاص رول ہے۔ حدیث میں ان کو اصحاب رسول، اور اخوان رسول کہا گیا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، ان کو العصابہ فرسٹ اور العصابہ سیکنڈ کہا جاسکتا ہے۔ العصابہ فرسٹ (اصحاب رسول) وہ لوگ تھے جن پر وہ لمبی تاریخ منتہی ہوئی تھی جو حضرت ہاجرہ سے شروع ہوئی اور حضرت محمد پر ختم ہوئی۔ العصابہ سیکنڈ (اخوان رسول) وہ لوگ ہوں گے جن پر بعد کی وہ تاریخ منتہی ہوئی ہو جو اسلامی انقلاب کے بعد ساتویں صدی عیسوی سے شروع ہوئی اور بیسویں صدی عیسوی میں ختم ہوئی :
The first al-Isaba was that of Ashab-e-Rasool. They were the culmination of 2500 years of previous history. The second Al-Isaba will be that of Ikhwan-e-Rasool. They will be the culmination of more than 1000 years of later history. اصل یہ ہے کہ ہر بڑا واقعہ ایک نیا پراسس (process) شروع کرتا ہے۔ یہ پراسس اپنے فطری کورس سے گزرتے ہوئے اپنی انتہا (culmination) تک پہنچتا ہے۔ جونصلیں اس پراسس کے تحت بنیں، جو اس پراسس کا آخری نتیجہ بن کر ظاہر ہوں، وہی وہ لوگ ہیں جن کے بارے میں کہا جائے گا کہ ان کے اوپر بعد کی تاریخ منتہی ہوئی ہے۔
اس معاملے کی ایک سیکولر مثال مغربی قومیں ہیں۔ مغرب میں چودھویں صدی عیسوی میں نشأة ثانیہ کے بعد ایک پراسس شروع ہوا جس کی انتہا بیسویں صدی کا آخر تھا۔ اس قسم کا پراسس تاریخ دعوت میں دوبارہ جاری ہوا ہے۔ پہلے پراسس کی انتہا، العصابہ فرسٹ ہیں، اور دوسرے پراسس کی انتہا، العصابہ سیکنڈ ہوں گے۔ اصحاب رسول کے بارے میں حضرت عمر فاروق نے کہا تھا: من سرّه أن يكون من هذه الأمة، فليؤدّ شرط الله فيها ۔ یہی معاملہ اخوان رسول کا بھی ہے۔ جو لوگ اس کی شرط پورا کریں گے، وہ اخوان رسول کا حصہ قرار پائیں گے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues