Al-Risala · June 2010 · page 21

وجودِ خدا، وجودِ انسان

الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۲۱

وجودِ خدا، وجودِ انسان

بیسویں صدی عیسوی میں انسانی تلاش وجودِ خدا کے موضوع پر مرتکز ہوتی تھی، مگر بیسویں صدی کے خاتمے کے ساتھ ہی اس دور کا خاتمہ ہو چکا ہے۔ اکیسویں صدی میں انسانی تلاش کا مرکزی نقطہ خود انسان کا وجود ہے۔ اب سارے غور و فکر کا موضوع انسان بن چکا ہے۔ دعوت کا کام کرنے والوں کے لیے اس تبدیلی کو جاننا بے حد ضروری ہے۔

وجودِ خدا کی نسبت سے، انسان کا علم کس آخری منزل تک پہنچا ہے، اس موضوع پر ماہ نامہ الرسالہ میں مختلف مضامین آچکے ہیں۔ مثال کے طور پر ملاحظہ ہو ’’سائنس سے معرفت تک‘‘ (الرسالہ، اگست 2009)۔ اب یہ موضوع اصولی طور پر ایک طے شدہ موضوع (settled subject) کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔ عملاً اب وہ ماضی کا سبجیکٹ ہے، نہ کہ حال کا سبجیکٹ۔ اکیسویں صدی کے اہل علم اور اہل فکر جس سنگین مسئلے سے دوچار ہیں، اس کا تعلق خود انسان کے اپنے وجود سے ہے۔ آج ساری دنیا میں جس موضوع پر سوچا جا رہا ہے، وہ یہ ہے کہ ــــ گلوبل وارمنگ کا مقابلہ کس طرح کیا جائے جو زمین پر قائم شدہ لائف سپورٹ کے فطری نظام کو تیزی سے تباہ کر رہا ہے۔ مسلح تحریکوں کے ظاہر ہ کا خاتمہ کس طرح کیا جائے جو امن عالم کے لیے ایک سنگین چیلنج بنا ہوا ہے، آزادی کے بے قید تصور کو کس طرح قابو میں لایا جائے جس نے دنیا کو عملاً انارکی کا جنگل بنا دیا ہے، اسلحہ کی تجارت پر کس طرح کنٹرول کیا جائے جس کا نتیجہ یہ ہوا ہے کہ ساری دنیا میں خطرناک ہتھیار اسی طرح خریدے جاسکتے ہیں جس طرح شاپنگ سنٹر میں عام کنزیومر گڈس (consumer goods)، وغیرہ۔

اسی ضرورت کو سامنے رکھتے ہوئے ہمارے ادارے نے دو کتابیں خصوصی اہتمام کے ساتھ چھاپی ہیں۔ ایک، قرآن کا انگریزی ترجمہ۔ اور دوسرے، پرافت آف پیس (The Prophet of Peace)۔ ضرورت ہے کہ ان دونوں کتابوں کو عالمی سطح پر زیادہ سے زیادہ پھیلایا جائے۔

‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues

Printed page