پانی کی اہمیت
الرسالہ، جون ۲۰۱۰، صفحہ ۲۲
پانی کی اہمیت
اسلام کی تعلیمات میں سے ایک تعلیم وہ ہے جس کو واٹر پنچ منٹ کہا جاسکتا ہے، یعنی پانی کو انتہائی کفایت شعاری کے ساتھ استعمال کرنا۔ مدینہ کا واقعہ ہے۔ پیغمبر اسلام ﷺ نے ایک صحابی سعد کو وضو کرتے ہوئے دیکھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے سعد، یہ کیسا اسراف ہے۔ انھوں نے کہا کیا وضو کے پانی میں بھی اسراف ہے۔ آپ نے فرمایا کہ ہاں، اگرچہ تم ایک بہتے ہوئے دریا کے کنارے ہو: وإن کنت علی نهر جار (مسند احمد (4/221) ۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ پانی کی اہمیت کتنی زیادہ ہے۔ زندگی کا انحصار پانی پر ہے۔ پانی نہیں تو زندگی بھی نہیں۔ عبدالرحیم خان خاناں نے بجاطور پر کہا تھا : رہیمن پانی را کھیو، بن پانی سب سُون !
دنیا میں ایک ارب 40 مربع کلومیٹر پانی ہے۔ اس کا 97.5 فی صد حصہ سمندر کا کھاری پانی ہے ۔ جس کا استعمال نہ کھیتی کے لیے کیا جاسکता ہے اور نہ پینے کے لیے۔ سمندر کے پانی کو صاف کرنے کے لیے بہت سے طریقے اپنائے گئے ہیں، مگر وہ کارگر نہ ہو سکے۔ عالمی صحت تنظیم کی رپورٹ کے مطابق، انسان کو پینے کے لیے کم از کم 3 لٹر پانی چاہیے۔ دودھ دینے والے مویشیوں کو 50 لٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ گائے کے ایک لیٹر دودھ کے لیے 8 سولیر پانی صرف ہوتا ہے۔ اسی طرح ایک کلو چاول پیدا کرنے کے لیے 3 ہزار لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ دنیا میں موجود ڈیڑھ فی صد پانی برف کی شکل میں ہے اور ایک فی صد پانی دریا اور تالاب وغیرہ کی شکل میں۔ اس ایک فی صد پانی کا 60 فی صد حصہ کھیتوں اور کارخانوں میں استعمال ہوتا ہے۔ بقیہ 40 فی صد حصہ پینے کے لیے اور روزمرہ کے استعمال کے لیے صرف ہوتا ہے۔ زمینی پیداوار کا 90 فی صد پانی کاشت کاری میں استعمال ہو جاتا ہے۔ عالمی صحت تنظیم کے ادارے کے مطابق، پانی بہت تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ 2025 تک صرف انڈیا میں ایک تہائی لوگ پانی کی قلت کا سامنا کرنے پر مجبور ہوں گے۔ بربادی کی حد تک پانی کے استعمال اور گلوبل وارمنگ کے نتیجے میں زیر زمین پانی کی سطح مسلسل طور پر گرتی جارہی ہے۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ پانی اور دیگر خدائی عطیات کا استعمال انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of June 2010 All issues