We are already in Paradise
الرسالہ، جنوری ۲۰۱۰، صفحہ ۲۹
میں پائی جاتی ہے۔ غالباً اسی تعلیم کا یہ نتیجہ ہے کہ مسیحیوں میں رافت اور رحمت کلچر بہت زیادہ عام ہوا، حتی کہ وہی ان کی پہچان بن گیا۔ مسیحی حضرات کی اس استثنائی صفت کا تجربہ مجھے اس کا نفرنس کے دوران بھی بار بار ہوا۔
مسلمانوں کی نفسیات اور مسیحی لوگوں کی نفسیات کے تقابلی مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ دونوں کے درمیان بہت زیادہ فرق پایا جاتا ہے۔ بعد کے زمانے میں مسلمانوں کی جو سیاسی تاریخ بنی اور ان کے یہاں جو لٹر پچر تیار ہوا، اُس کے نتیجے میں مسلمانوں کا ذہن یہ بنا کہ دشمن سے لڑو: Fight your enemy اِس کے برعکس، مسیحی لوگوں کا ذہن ان کی روایات کے مطابق، یہ بنا کہ دشمن سے محبت کرو: Love your enemy یہی نفسیات دونوں قوموں کے اندر عمومی طور پر پائی جاتی ہے۔ جہاں تک صلیبی جنگوں، یا پہلی عالمی جنگ اور دوسری عالمی جنگ کا معاملہ ہے، وہ مسیحی عوام کی نفسیات کا مظہر نہ تھا، بلکہ وہ کچھ مسیحی لیڈروں کی سیاسی معرکہ آرائی اور کشور کشائی کا نتیجہ تھا۔
کمیونٹی کے ایک ذمے دار ڈاکٹر فیڈ رکو (Federico Di Leo) نے مجھ سے کہا کہ آپ چند ایسے مسلم اسکالر کے نام ہمیں دیجیئے جو آپ کے نزدیک امن کی واقعی اہمیت کو جاننے والے ہوں۔ میں نے اپنے ساتھی کو چند نام بتائے۔ میرے ساتھی نے مسٹر فیڈ رکو سے کہا کہ مولانا نے کچھ نام بتائے ہیں، لیکن اس وقت ہمارے پاس ان لوگوں کا مکمل ایڈریس موجود نہیں ہے۔ ہم انڈیا پہنچ کر آپ کو ان کا پورا ایڈریس روانہ کر دیں گے۔
مسٹر فیڈ رکو نے کہا کہ نہیں، ہم لوگ لیت و لعل (procrastination) کو پسند نہیں کرتے۔ اگر آپ کو ان لوگوں کے نام معلوم ہیں تو آپ اس وقت ہم کو صرف ان کے نام لکھوا دیجیئے۔ بعد کو ہم آپ سے ان کا مکمل ایڈریس حاصل کر لیں گے۔ کیا معلوم ہم لوگ یہاں سے واپس جا کر بھول جائیں اور یہ اہم کام پورا ہونے سے رہ جائے۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2010 All issues